ايران كی قرآنی خبررساں ايجنسی ﴿ايكنا﴾ نے اطلاع رساں ويب سائیٹ STLtoday ،كے حوالے سے نقل كرتے ہوئے كہا ہے كہ امريكی رياست ميسوری كے شہر "سنٹ ليوس" كے جيل حكام نے جيلوں میں مسلمان خواتين كو بے حجاب کرنے پر مسلمان رہنماؤں کی جانب سے احتجاج اور اظہار تشویش كے بعد تفتيشی طريقہ كار بدل ديا ہے۔
رپورٹ كے مطابق نئے قانون كے تحت جيل میں داخلے كے وقت ايك كمرے میں مسلمان خواتين كے سروں كی تلاشی لی جائے گی جس كے بعد ان كو مقدمے كے نتيجے تك حجاب پہننے کی اجازت ہوگی ۔
قابل ذكر ہے كہ ميسوری میں مسلمانوں كی حمايت كے لیے كام كرنے والے گروپ كے ایگزیکٹو ڈائریکٹر "سيد فيضان" نے اس اقدام پر خوشحالی کا اظہار کیا ہے ۔
994309