ايران كی قرآنی خبررساں ايجنسی (ايكنا) نے "Press Tv" سے نقل كای ہے كہ تيونس كے انقلاب سے پہلے مسلمان گلوكار مذہبی موسيقی پيش نہیں كرسكتے تھے ليكن اسلامی بيداری كے بعد یہ ممنوعيت ختم ہوگئی ہے۔ اسی لئے سامی يوسف نے ملك میں پہلا اسلامی كنسرٹ پيش كيا ہے۔ اس كنسرٹ میں وہ حمد باری تعالی، اسلامی اقدار، مسلمانوں میں وحدت اور تيونس كے انقلاب كی مبارك باد جيسے موضوع پيش كئے ہیں۔ ہزاروں لوگوں نے اس كنسرٹ كو ديكھا ہے۔ سامی يوسف نے خطے میں ہونے والے انقلاب اور اسلامی بيداری كے بارے میں خصوصی نغمہ پيش كيا ہے۔
995677