ايران كی قرآنی خبررساں ايجنسی ﴿ايكنا﴾ كی رپورٹ كے مطابق ويب سائیٹ"اينڈ ای بی" نے ليبيا میں نیٹو كی مداخلت اور اس كے نتائج كا جائزہ ليتے ہوئے تحرير كيا ہے كہ نیٹو كی جانب سے «حفاظت كی مسؤليت»(R2P) منصوبہ ليبيا میں جنگ كے آغازكا بہانا تھا ، كئی مہينے مسلسل گولہ باری كے ذريعے اس ملك كو كھنڈر میں تبديل كر ديا گيا ہے اور اب یہ کہنا مناسب ہوگا کہ افريقا كا ترقی يافتہ ترين ملك برباد ہوا ہے نہ كہ آزاد ! اس ملک میں ابھی تک ایک طولانی کشمکش جاری ہے اور موجودہ حالات کے پیش نظر كئی سال تك اس کے جاری رہنے کی توقع کی جاتی ہے ۔
دوسری جانب نیٹو اس بات كا مدعی ہے كہ اس كا مشن بطور احسن مکمل چكا ہے اسی طرح امريكی وزير دفاع نے بھی كہا ہے كہ واشنگٹن لیبیا میں ظلم كے خاتمے اور آزادی كی خاطر ايك گرينڈ الائنس کی تشكيل میں مدد كر رہاہے لیکن ليبيا كے عوام امریکی عزائم کو اچھی درك كر چکی ہے جبکہ ملک میں امن اور محبت کی جگہ قتل و غارت کی ایسی فضا پھیل چکی ہے جس میں تبدیلی کے لیے ایک طولانی عرصہ درکار ہے ۔
998402