ايران كی قرآنی خبررساں ايجنسی (ايكنا) كی رپورٹ كے مطابق ٹری جونز جيسے لوگ اسلام اور اسلامی مقدسات كی توہين میں اپنا وقت صرف كرتے ہیں۔ ليكن اس بات سے غافل ہیں مسلمانوں كا قرآن پر اعتقاد ان باتوں سے زيادہ مستحكم ہوتا ہے۔ قرآن كريم چند معمولی اوراق كی كتاب نہیں كہ اسے آگ لگانے سے ختم كيا جاسكے۔ اس كے اندر محفوظ معانی اور كلمات كی حفاظت كا وعدہ خود اللہ تعالی نے كيا ہوا ہے۔ ٹيری جونز نہیں جانتا قرآن كريم كے كچھ صفحات نذر آتش كرنے سے ايك ارب سے زيادہ مسلمانوں كے دلوں میں محفوظ قرآن كريم كو ختم كيا جاسكتا ہے۔ حقيقت میں سورہ بقرہ كی آيت نمبر سات اس طرح كے لوگوں كی حقيقت بيان كررہی ہے؛
" ختم اللہ علی قلوبھم و علی سمعھم و علی ابصارھم غشاوۃ و لھم عذاب عظيم" خدا نے ان كے دلوں اور كانوں پر مہر لگادی ہے اور ان كی آنكھوں پر پردہ ڈال ديا ہے اور ان كيلئے بہت بڑا عذاب ہے۔
1005564