مصر كے قرآنی مدارس ؛ قرآنی تعليم اور زيبائی كے ادراك كا مہم ترين باب ہیں

IQNA

مصر كے قرآنی مدارس ؛ قرآنی تعليم اور زيبائی كے ادراك كا مہم ترين باب ہیں

14:28 - May 15, 2012
خبر کا کوڈ: 2326531
بين الاقوامی گروپ : مصر كے قرآنی مدارس قرآن كی تعليم اور اسكی زيبائی كے ادراك كے لیے مہم ترين ذريعہ ہے ليكن اس ملك میں قرآنی تعليم كی اساس ہونے كے باوجود آج یہ مدارس بےاعتنائی كا شكار ہیں اور حكام كی جانب سے بيشتر توجہ كے محتاج ہیں
ايران كی قرآنی خبررساں ايجنسی ﴿ايكنا﴾ نے اطلاع رساں ويب سائیٹ «sauress.com»، كے حوالے سے نقل كرتے ہوئے كہا ہے كہ لفظ «كتّاب»(مكاتب) ايك قديم اصطلاح ہے جس كا مطلب حفظ قرآن ، قرٲت كے اصول اور لكھنے كی تعليم كے لیے ايسی جگہ جس كا شمار اس وقت مصر كے مہم ترين اسلامی تعليمی مركز میں ہوتا ہے جو مسلمان بچوں كی تعليم و تربيت كے لیے كام كررہا ہے ؛ جبكہ اس قسم كے مكتبوں كی بازگشت اموی دوركی جانب ملتی ہے ۔
مصری يونيورسٹی "حلوان" كی علوم فيكلٹی كے انچارج اور ممتاز مصنف "رزق عبد المنعم" نے مقالے میں قرآنی مكتبوں كی تعليمی روشوں كے بارے میں لكھا ہے كہ گزشتہ زمانوں میں مصری عوام اپنے بچوں كو حفظ قرآن ، بہتر تعليم نيز فصيح عربی زبان سيكھنے كے لیے مكتبوں میں بھيجا كرتےتھے اور اس دور میں ان قرآنی مدرسوں كو ملكی سطح پر بالخصوص دیہاتوں میں عظيم مقام حاصل تھا اور مسلمان خاندان بھی ان مكاتب پر فخر كيا كرتے تھے ۔
1007007
نظرات بینندگان
captcha