ايران كی قرآنی خبررساں ايجنسی ﴿ايكنا﴾ نے اطلاع رساں ويب سائیٹ «sauress.com»، كے حوالے سے نقل كرتے ہوئے كہا ہے كہ لفظ «كتّاب»(مكاتب) ايك قديم اصطلاح ہے جس كا مطلب حفظ قرآن ، قرٲت كے اصول اور لكھنے كی تعليم كے لیے ايسی جگہ جس كا شمار اس وقت مصر كے مہم ترين اسلامی تعليمی مركز میں ہوتا ہے جو مسلمان بچوں كی تعليم و تربيت كے لیے كام كررہا ہے ؛ جبكہ اس قسم كے مكتبوں كی بازگشت اموی دوركی جانب ملتی ہے ۔
مصری يونيورسٹی "حلوان" كی علوم فيكلٹی كے انچارج اور ممتاز مصنف "رزق عبد المنعم" نے مقالے میں قرآنی مكتبوں كی تعليمی روشوں كے بارے میں لكھا ہے كہ گزشتہ زمانوں میں مصری عوام اپنے بچوں كو حفظ قرآن ، بہتر تعليم نيز فصيح عربی زبان سيكھنے كے لیے مكتبوں میں بھيجا كرتےتھے اور اس دور میں ان قرآنی مدرسوں كو ملكی سطح پر بالخصوص دیہاتوں میں عظيم مقام حاصل تھا اور مسلمان خاندان بھی ان مكاتب پر فخر كيا كرتے تھے ۔
1007007