بين الاقوامی گروپ : مصر كے صدارتی انتخابات میں دو ہفتوں سے بھی كم وقت رہ گيا ہے اور صیہونی حكومت مصر میں بدلتے ہوئے حالات پر شديد اضطراب كا شكار ہے ، خصوصا اس وقت جبكہ مصر كے صدارتی اميدواروں كی جانب سے كيمپ ڈيوڈ پرمسلسل سوال اٹھائے جا رہے ہیں ، اور ان میں سے ہر كوئی اسرائيلی حكومت كے ساتھ تعلقات كو محدود كرنے كے لیے سياسی رقيبوں پر سبقت حاصل كرنے كی كوشش كر رہا ہے ۔
ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی (ايكنا ) نے لبنان سے نكلنے والے اخبار ، روزنامہ "الاخبار"، كے حوالے سے نقل كرتے ہوئے كہا ہے كہ فلسطين كی مقبوضہ سرزمين كے ساتھ مصری سرحد پر ركاوٹی ديوار كی تعمير جاری ہے ، "كرم شالوم" اور "نيتسانا" كے درميان ۷۵ كلومیٹر پر مشتمل اس ديوار كی تعمير قاہرہ اور تل ابيب كے درميان بگڑتے ہوئے تعلقات كی نشاندہی كر رہی ہے وہ تعلقات جو سال ۱۹۷۹ء سے امن اور ديرينہ دوستی پراستوار رہے ہیں ۔
گزشتہ مہينے میں صیہونی حكومت كے سابق اتحاديوں كی جانب سے اسرائيل كو گيس كی فراہمی پر مشتمل۲۰ سالہ معاہدے كو كالعدم قرار ديئے جانے كے بعد گيس كی بندش نے اسرائيل كو دہشت زدہ كرديا ہے جبكہ مذكورہ معاہدہ تل ابيب اور قاہرہ كے درميان اچھے تعلقات كی نشانی سمجھا جاتا تھا اور اس میں سال ۱۹۷۹ كے دو طرفہ امن معاہدے كا بھی بار بار ذكر كيا گياہے ۔
1006987