ايران كی قرآنی خبررساں ايجنسی (ايكنا) نے "المنار" نيوز نیٹ ورك سے نقل كيا ہے كہ شام كی سرزمين پر چند لبنانی زائرين كو اغوا كرليا گيا۔ حزب اللہ لبنان كے سيكرٹری جنرل سيد حسن نصر اللہ نے المنار چينل كے نمائندہ سے گفتگو كے دوران اس واقعہ كی شديد مذمت كی اور كہا ہم دہشت گردوں كے اس جيسے اقدامات كی پر زور مذمت كرتے ہیں اور ہم ترجيح ديتے ہیں كہ اس مسئلہ كو كس طرح حل كيا جائے۔
انہوں نے مزيد كہا حزب اللہ اور امل تحريك اس واقعہ كا مقابلہ كریں گے۔ ہم اس واقعہ كو اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں كيونكہ اغوا شدہ ہمارے بھائی اور ہمارے بیٹے ہیں۔
حزب اللہ كے سيكرٹری جنرل نے كہا اغوا شدہ افراد لبنانی شہری ہیں اور لبنانی حكومت كو بھی ہر حكومت كی طرح اپنا فريضہ سمجھتے ہوئے اس جيسے اقدامات كا حل كرے اور اغوا شدہ شہريوں كی رہائی كيلئے كوشش كرے۔
انہوں نے كہا لبنانی پارليمنٹ كے صدر نبیہ بری نے لبنانی وزير اعظم نجيب ميقاتی سے بھی ٹيلی فون كے ذريعہ بات چيت كی ہے اور ہم بھی دوسرے سياسی حكام سے گفتگو كر رہے ہیں۔ اس حكومت كی ذمہ داری ہے كہ وہ اس حادثہ میں ہر ممكن كوشش كرے اور ہم بھی اس مسئلہ میں حكومت كا ساتھ دیں گے۔ اور لبنانی عوام سے بھی یہ توقع ہے كہ اس ملك كی فضا میں امن برقرار ركھیں۔ كيونكہ چند روز پہلے "طرابلس اور عكار" كے حالات خراب تھے۔ ايك اچھے نتيجہ تك پہنچنے كيلئے عوام كے تعاون كی ضرورت ہے۔
سيد حسن نصر اللہ نے كہا لبنان میں شام كے شہريوں كے اغوا جيسے اقدامات غير اخلاقی ،غير قانونی اور غير شرعی ہیں۔ لبنان میں مقيم شامی شہری ہمارے بھائی ہیں اور یہ حكومت لبنان كی بھی ذمہ داری ہے كہ شامی شہريوں كی حمايت كرے اور كوئی بھی شامی شہريوں كے ساتھ كسی قسم كا غلط اقدام نہیں ہونا چاہئے۔
حزب اللہ كے سيكرٹری جنرل سيد حسن نصر اللہ نے آخر میں كہا ہم ہر قسم كے ذرائع كا استعمال كریں گے۔ تمام لوگوں كو چاہئے كہ نظم و ضبط كا خصوصی خيال ركھیں۔ ہم نے پر امن طور پر اپنے خيالات كا اظہار كيا ہے اور دن رات كوشش كریں گے كہ ان اغوا شدہ افراد كو آزاد كرايا جائے۔
1014732