ايران كی قرآنی خبررساں ايجنسی ﴿ايكنا﴾ نے رائیٹر نيوز ايجنسی سے نقل كيا ہے استنبول كے ہزاروں مسلمان شہريوں نے " ايا صوفیہ " ميوزيم كے اردگرد احتجاجی اجتماع كيا ، ۱۹۳۴ كے قانون كو منسوخ كرنے اور ايا صوفیہ كو دوبارہ مسجد بنانے كا مطالبہ كرديا ۔
مظاہرين نے نعرے محاصرے كو ختم كرو مسجد كو كھول دو اور اللہ اكبر لگا كر احتجاج كيا اور پھر وہاں آنے والے سياحوں كے سامنے نماز ادا كی ۔
ياد رہے آيا صوفیہ مشرق میں عيسائی چرچ تھا جسے۵۳۲ عيسوی میں بازنطينی سلطنت كے بادشاہ كانسٹنٹائن اول كے حكم سے تعمير كيا گيا تھا پھر چھٹی صدی میں جسٹنيانس نے اسكی تعمير نوكی۔ استنبول كی فتح كے بعد سلطان محمد دوم كے حكم سے ايا صوفیہ كو مسجد میں تبديل كرديا اور سليمان اول كے حكم سے اس میں موجود نقش ونكار پر پردہ ڈال كر نماز جمعہ شروع كرادی مراد سوم كے زمانے میں مينار، منبر اور محراب كا اضافہ ہوا مراد چہارم كے زمانے میں اس كی ديواروں اورچھت پر قرآنی آيات مصطفی چلبی كے خط میں تحرير كی گئی ليكن تركی میں جمہوری حكومت كے آنے پر آتا ترك نے ايا صوفیہ كو ميوزيم میں تبديل كر ديا ہے ۔
1017540