امام خمينی (رہ) نے فلسطين كو دينی مسئلہ كے طور پر پيش كيا

IQNA

امام خمينی (رہ) نے فلسطين كو دينی مسئلہ كے طور پر پيش كيا

11:15 - June 02, 2012
خبر کا کوڈ: 2339098
بين الاقوامی گروپ: حزب اللہ كے سيكرٹری جنرل نے كہا حضرت امام خمينی بيت المقدس اور فلسطين پر خصوصی توجہ ركھتے تھے اور فلسطين دينی مسئلہ كے طور پر پيش كيا نہ سياسی مسئلہ كے طور پر ۔
ايران كی قرآنی خبررساں ايجنسی (ايكنا) نے "المنار" چينل سے نقل كيا ہے كہ حزب اللہ كے سيكرٹری جنرل سيد حسن نصر اللہ نے كل يكم جون كو حضرت امام خمينی كی 23 ویں برسی كی مناسبت سے بيروت كے قصر "يونيسكو" میں تقريب منعقد ہوئی ، میں گفتگو كرتے ہوئے كہا امام خمينی بيت المقدس اور فلسطين پر خصوصی توجہ ركھتے تھے ، اور صدام اور بعض عرب ممالك كی حمايت كے ساتھ ايران كے خلاف جنگ میں بھی فلسطين كے مسئلہ كو ہر گز فراموش نہیں كيا۔
انہوں نے مزيد كہا امام خمينی نے انقلاب كو كاميابی كی سطح سے ہمكنار كيا اور آج اس كی اہميت اور موثر كردار دنيا كے مختلف مناطق میں چند دہائيوں كے بعد بھی معين ہورہا ہے۔اور امام خمينی نے اسلامی جمہوریہ ايران كی عوام كے قائد كے عنوان سے امريكا نواز ، شاہ كی حكومت كو نابود كيا اور ايران میں اسلامی جمہوریہ كی بنياد ركھی۔
سيد حسن نصر اللہ نے كہا امام خمينی فلسطين اور بيت المقدس پر خصوصی توجہ ركھتے تھے اور فلسطين كو ايك مذہبی مسئلہ كے طور پر پيش كيا نہ سياسی، امام ہميشہ مسلمان اقوام كو يكجہتی اور وحدت كی تلقين كرتے تھے۔
انہوں نے اس بات پر زور ديا كہ ايران میں انقلاب اسلامی كی كاميابی كے بعد صدام امريكا ، مغرب زمين، اور دنيا كے مختلف ممالك كی حمايت كے ساتھ ايران پر حملہ كيا اس دور میں بہت سارے ممالك صدام كے حامی تھے ليكن چند ممالك جيسے شام ايران كی حمايت میں تھے۔
حزب اللہ كے سيكرٹری جنرل نے كہا شام كے بارے ہمارا موقف یہ ہے كہ اس ملك كی وحدت كی حفاظت ہونی چاہئے، ہم بھی شام كی عوام كی حمايت كرتے ہیں اور شام میں موجودہ دہشت گردی كے واقعات كے بارے ہمارا خيال دوسروں كی نسبت فرق كرتا ہے۔
1021696
نظرات بینندگان
captcha