ايران كی قرآنی خبررساں ايجنسی ''ايكنا'' نے سفير نيوز نیٹ ورك سے نقل كيا ہےكہ بوسنيا كی جنگی جرائم كی عدالت نے 1995 میں سربرنيتسا شہر میں 800 مسلمانوں كے قتل عام میں شريك ہونے كے جرم میں چار فوجيوں كو قيد كی سزا سنائی ہے۔
یہ چار فوجی مسلمانوں كے قتل عام كےجرم میں گرفتار ہوئے تھے ليكن عدالت میں تحقيقات كی روشنی میں یہ ثابت ہوا كہ فوجی اپنے كمانڈوں كے حكم پر عمل كررہے تھے ليكن مسلمانوں كے قتل عام سے آگاہ نہیں تھے اس لیے عدالت نے انسانيت كے خلاف جرائم كے تحت انھیں سزا سنائی۔
عدالت نے بتايا یہ چارفوجی فوج كے مركزی ہیڈكوارٹر كے حكم كے مطابق سربرنيتسا شہر كے قريب بچوں اور عورتوں كو بسوں سے اتار كر نزديكی كھيت میں لے جاكر قتل كرتے تھے۔ عدالت نے جرم ثابت ہونے پر انھیں 19 سے 43 سال كی قيد سنائی ہے۔
1030817