ايران كی قرآنی خبررساں ايجنسی (ايكنا) نے "العالم" نيوز نیٹ ورك سے نقل كيا ہے كہ حضرت امام موسی كاظم(ع) كی شہادت كی مناسبت سے كل 16 جون كو لاكھوں كی تعداد میں ملكی اور غير ملكی زائرين ان كے حرم مطہر كاظمين میں پہنچے ہوئے تھے۔
سيكورٹی كے سخت انتظامات كے باعث بھی كل ظہر كے قريب حضرت امام موسی كاظم (ع) كے زائرين كے راستہ میں "الشعلہ"كے نزديك بم دھماكہ ہوا جس كے نتيجہ میں 14 افرد شہيد اور 32 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
اس بم دھماكے كے دو گھنٹے بعد شہر كاظمیہ كے نزديك "عدن" چوك پر ايك اور بم دھماكہ ہوا جس میں 18 افراد شہيد اور 36 افراد كے زخمی ہونے كی اطلاع موصول ہوئی ہے۔
واضح رہے كہ گذشتہ ہفتے میں بھی عراق كے مختلف علاقوں میں بم دھماكے ہوئے جس كے نتيجہ میں دسيوں افراد شہيد اور زخمی ہوئے تھے۔ ماہرين كا كہنا ہے كہ بعض ديگر ممالك كی مداخلت ہے اور ان كی سازش ہے كہ عراق میں دہشت گردی كے ذريعہ تفرقہ ايجاد كيا جائے۔
1031697