بين الاقوامی گروپ: عبداللہ صالح كی حكومت كے خاتمہ سے انسانی حقوق كی تنظٰموں كو يمن میں كام كرنے كے بہتر مواقع مل رہے ہیں حالانكہ يمن كے نئے صدر "عبد ربہ ہادی" بھی استبدادی نظريات ركھتا ہے ليكن مفادات كی وجہ سے احتياط كر رہا ہے ۔ انسانی حقوق كی تنظيوں كے كام كی وجہ سے يمن سے انسانی حقوق كے بارے میں ہر روز وحشت ناك خبریں مل رہی ہیں ۔
ايران كی قرآنی خبرساں ايجنسی ﴿ايكنا﴾ كے تجزیہ نگار كے مطابق آج كل يمن میں فقر نے عوام كو تباہ حال كرديا ہے غذائی كمی كا شكار يمنی عوام اس مسئلے كے علاوہ دہشت گردی كا بھی شكار ہیں كيونكہ عبداللہ صالح كی حكومت كے خاتمے كے بعد القاعدہ كی كاروائيوں كی وجہ سے امريكا بھی موجود ہے جس كی وجہ سے يمن میں فرقہ واريت اور قبائلی جنگ كی آگ بھڑك اٹھی ہے۔
يمن كی نصف آبادی شيعہ كميونٹی پر مشتمل ہے یہ كميونٹی پہلے القاعدہ كے حملوں كا شكار تھی ليكن اب سعودی حمايت يافتہ سلفی گروپ بھی ان پر حملے كررہے ہیں ايسے وقت میں جو امداد عالمی برادری كی طرف سے آتی ہے وہ شيعوں تك نہیں پہنچ پاتی كيونكہ يمن كی حكومت بھی شيعہ كميونٹی كے ساتھ كينہ ركھتی ہے البتہ استعماری طاقتیں اسلامی بيداری روكنے كيلئے شيعہ قتل عام كا حربہ استعمال كررہے ہیں
1033468