ايران كی قرآنی خبررساں ايجنسی ''ايكنا'' نے امريكہ سے شائع ہونے والے اخبار وال سڑیٹ جنرل سے نقل كيا ہے كہ قرآن كريم كی بے حرمتی كرنے والے سات فوجيوں كی تفتيش افغانستان میں وزارت دفاع كے حكام نے كی اور اس میں یہ ثابت ہوا كہ ان افراد نے عمدًا یہ كام نہیں كيا تھا اس لیے یہ جرم تصور نہیں ہوتا بلكہ نظم وضبط كی خلاف ورزی قرار پاتی ہے ۔ وزارت دفاع كے حكام نے كہا ہے اعلی فوجی حكام اس بارے فيصلہ كریں گے كہ ان كو كيا سزا دی جائے۔اس سے پہلے ان حكام نے كہا تھا كہ ان نيوی سيلرز نے ديكھا كہ جيل میں قيد افراد دينی كتابوں میں لكھ كر ايك دوسرے كی طرف پيغام رسانی كرتے ہیں تو انہوں نے تمام مذہبی كتابیں ان سے لے كر جلا دیں، اس سے بے حرمتی يا توہیں مقصود نہیں تھی ۔ گذشتہ مارچ میں اس واقعہ كے بعد افغانستان كے متعدد شہروں میں شديد ہنگامے پھوٹ پڑے تھے۔ 1033970