ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی '' ايكنا'' نے ''On IsIam'' نیٹ ورك سے نقل كيا ہے كہ گلوبل ريسرچ انسٹی ٹيوٹ ''گيلپ'' كی حالیہ سروے رپورٹ كے مطابق جن عرب ممالك میں سياسی انقلاب كامياب ہوا ہے ان میں مرد وزن كا مطالبہ ہے كہ ملكی قانون سازی میں دين كو مركزی حيثيت حاصل ہونی چاہیے۔ اس سروے كے مطابق عوام كی بہت تھوڑی تعداد دين كو قانون سازی سے جدا ركھنا چاہتی ہے۔
اس سروے كے مطابق مصر میں 44 فيصد خواتين اور 50 فيصد مردوں كی رائے یہ ہے كہ اسلامی شريعت ملكی آئين كا مركزی نكتہ ہونا چاہیے۔ اس طرح يمن میں 88 فيصد مرد اور 58 فيصد خواتين اسلامی شريعت كی حامی ہیں۔
ليبيا میں 39 فيصد مرد اور 32 فيصد خواتين ملكی آئين میں اسلامی شريعت كو مركزی حيثيت دلانا چاہتے ہیں۔
1039555