ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی (ايكنا) نے اطلاع رساں ويب سائیٹ «journalmetro»، كے حوالے سے نقل كرتے ہوئے كہا ہے كہ آل خليفہ حكومت جو بين الاقوامی دباؤ كی وجہ سے اس بچے كو آزاد كرنے پر مجبور ہوئی ہے ، نے اعلان كيا ہے كہ اس بچے كی آزادی اس امر سے مشروط ہے كہ یہ ايك سال تك سيكيورٹی فورسز كی نگرانی میں نظر بندی كا دورانیہ گزارے ۔
ادھر شيعہ بچے كے وكيل نے اس فيصلے پر اعتراض كرتے ہوئے كہا : علی حسن كو ظاہری طور پر آزاد كر ديا گيا ہے ليكن عدالت نے اسے بالواسطہ طور پر سزا سنا دی ہے ۔
1045926