بين الاقوامی گروپ : اخوان المسلمين نے مصر كی سياست میں اپنے ۸۰ سالہ وسيع تجربے اور مرسی جيسی تجربہ كار شخصيات كی موجودگی میں دينی حكومت میں نئے افكار اور گفتار جو حقيقت میں تمام سليقوں اور تحريكوں كے احترام پر مبنی مدنی معاشرے كی عكاسی كرتے ہیں ، تك رسائی حاصل كی ہے اور یہ امر پارليمنٹ كے احيا میں سيكولر افراد كی جانب سے مرسی كی حمايت حاصل كرنے میں مددگار ثابت ہو سكتا ہے ۔
۸ جولائی كو مصر كے نئے صدر محمد مرسی نے ايك انقلابی اقدام كے ذريعے ۱۴ جون كو فوجی كونسل كی جانب سے تحليل كی گئی پارلمينٹ كی دوبارہ بحالی كا اعلان كيا ہے اور اراكين پارلمينٹ سے جلد از جلد اپنی تمام تر طاقت كے ساتھ فرائض انجام دينے كا مطالبہ كيا ہے ۔ اگرچہ كہ یہ اقدام انتخابات كے بعد انقلابی مصر كے تمام ميكانزم كو دوبارہ زندہ كرنے پر مشتمل مرسی كے خطابات سے زيادہ دور نظر نہیں آتا ليكن پارليمنٹ كی بحالی كا فيصلہ اور اس پر عمل درآمد میں تيزی مرسی كی جانب سے سابقہ حكومتی پاليسيوں كے خاتمے كے لیے عزم كی نشاندہی كرتا ہے ۔
1048457