ايران كی قرآنی خبر رساں (ايكنا) نے بين الاقوامی قاری اور قرآنی استاد احمد ابو القاسم جو امين پويا كے ساتھ راہنما كے طور پر ملائيشيا گئے تھے گفتگو كرتے ہوئے كہا : میں نے بہت عرصہ پہلے ايك تجويز دی تھی كہ اميد ركھتا ہوں كہ بالاخر اس كا جائزہ ليا جائےگا كہ جمھوری اسلامی ايران كواپنے قاريوں كو مختلف تعليمی كورس كرانا چاہیے ۔ ان تعليمات كے مطابق قاری بين الاقوامی مقابلوں میں حصہ لے اوراس ملك كے قواعد و ضوابط كے مطابق تلاوت كرے ۔
انہوں نے مزيد كہا كہ جيسے استاد عبائی نے كہا ہے كہ مختلف ممالك كے مقابلوں كے قواعد و ضوابط میں نقائص موجود ہیں جن كی وجہ سے ايرانی نمائندے كا حق ضائع ہوتا ہے كہ جيسے امين پويا كے ساتھ ہوا جيسے ملائيشيا میں ہوا كہ اگر كوئی قاری ايك غلطی كو متعدد بار انجام دے تو اس كا صرف ايك نمبر كم ہوتا ہے كہ یہ نقص ہے انہوں نے كہا ان مقابلوں كے بعد ہمیں چاہیے كہ ايران كے اندر ايك جيوری بٹھائیں اور وہ امين پويا اورملائيشيا كے قاری كی تلاوت كا جائزہ لیں اس سے مقابلوں میں شركت كرنے والے قاری كی حوصلہ افزائی ہو گی كہ اگر باہر اس كا حق ضائع ہوا ہے تو ملك كے اندر ايك گروہ موجود ہے جو اس كی ہمت بڑھا رہا ہے ۔
1051947