بين الاقوامی گروپ : حالیہ رپورٹوں كی بنياد پرميانمار میں بدھ مت سے تعلق ركھنے والے انتہا پسند گروپ كی جانب سے ہزار سے زائد مسلمانوں كا قتل عام اور لاكھوں كی تعداد میں ديگر مسلمانوں كے بے گھر ہونے پر مجبور كر دياگيا ہے ۔ درحالنكہ بين الاقوامی برادری اور انسانی حقوق كے دعويداروں نے اس نسل كشی پر كسی خاص ردعمل كا اظہار نہیں كيا ہے ۔
ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی (ايكنا) كی رپورٹ كے مطابق ، ميانمار میں مسلمانوں كی نسل كشی جاری ہے جبكہ بين الاقوامی برادری سميت انسانی حقوق كی دعويدار مغربی دنيا اور امريكا نے اس كے مقابل پر مجرمانہ خاموشی اختيار كر ركھی ہے اور صرف بعض عرب اور ايشيائی ممالك كے ساتھ ساتھ متعدد اسلامی اداروں نے اس حوالے سے بڑے پيمانے پر ردعمل كا اظہار كيا ہے ۔
مصر سے نكلنے والے اخبار ، روزنامہ (اليوم السابع) كی رپورٹ كے مطابق ، مصركی قانون ساز اسمبلی كے پانچویں اجلاس كے آغاز سے پہلے اراكين نے ميانمار میں بوديوں كی جانب سے مسلمانوں كی نسل كشی كے بارے میں بحث كی گئی ہے ۔
1056819