ايران كی قرآنی خبررساں ايجنسی ﴿ايكنا﴾ نے "المنار" نيوز نیٹ ورك سے نقل كيا ہے كہ لبنان كے دارالحكومت بيروت میں محرم الحرام كی تيسری شب كی مناسبت سے ہونيوالی اپنی تقرير میں حزب اللہ كے سربراہ كا كہنا تھا كہ فلسطينی مجاہدين نے اپنی حكمت، شجاعت اور طاقت كے ذريعے تحريك مزاحمت كا استقامت اور پائيداری پر مبنی چہرہ دنيا كے سامنے آشكار كيا ہے۔ انہوں نے كہا كہ غزہ كی عوام كے اندر موجود تحريك مزاحمت كے عناصر نے اپنے دوست، دشمن اور تمام جہاں پر اپنا موقف واضح كر ديا ہے۔
سيد حسن نصر اللہ نے كہا كہ اگر فلسطين كی مزاحمتی تحريك كمزرو ہوتی يا اپنی عوام اور ملت كی نگاہ میں ذليل ہوتی تو اس كے خلاف دشمنيوں كا سلسلہ كبھی ختم نہ ہوتا۔
انہوں نے مزيد كہا كہ اسرائيل نے غزہ پر حملہ كركے بہت بڑی غلطی كی ہے اور صیہونيوں كا گمان تھا كہ اپنے ابتدائی حملوں میں تحريك مزاحمت كے ميزائلوں كی قدرت كو نابود كر دیں گے، اب انہیں اپنے وہم اور غلطی كا احساس ہوگيا ہے۔
حزب اللہ كے سيكرٹری جنرل نے كہا كہ اب تحريك مزاحمت ہے جو جنگ بندی كے لئے شرائط طے كر رہی ہے، جن میں كہا گيا ہے كہ جنگ بندی كے لئے اسرائيل غزہ كا محاصرہ مكمل طور پر ختم كرے اور بين الاقوامی برادری یہ ضمانت دے كہ صیہونی حكومت ٹارگٹ كلنگ اور دشمنی كا سلسلہ دوبارہ شروع نہیں كرے گی۔
انہوں نے تاكيد كرتے ہوئے كہا كہ تحريك مزاحمت فلسطينی موجودہ صورتحال میں جنگ بندی كے بارے میں بات كرنے كی پوزيشن میں نہیں ہے، كيونكہ موجودہ صورتحال میں جنگ بندی كی بات كرنا تحريك مزاحمت كے فائدے میں نہیں ہے۔
سيد حسن نصراللہ نے اسرائيل پر طاری خوف كے بارے میں بات كرتے ہوئے كہا كہ ہم اسرائيل كی عقب نشينی كو ديكھ رہے ہیں، اس كی صفوں میں پريشانی اور اختلاف رائے كا آغاز ہوچكا ہے اور اس جنگ كے طويل ہونے كی صورت میں اسرائيل كو ہونے والے جانی اور مالی نقصان كے بارے میں باتیں ہونا شروع ہوگئی ہیں۔
ان كا كہنا تھا كہ عرب ممالك كی طرف سے اسرائيلی جارحيت پر ردعمل توقع سے بہت كم ہے اور ہم منتظر ہیں كہ عرب ممالك كی طرف سے ايسا موقف اختيار كيا جائے، جس سے اسرائيل پر دباو بڑھے كہ وہ غزہ پر اپنے حملوں كو روكے اور تحريك مزاحمت فلسطين كی شرائط كو قبول كرے۔
حزب اللہ كے سيكرٹری جنرل سيد حسن نصر اللہ نے مزيد كہا كہ ابھی تك ہم منتظر ہیں كہ عرب ممالك صیہونی حكومت كی اس جارحيت كے خلاف مناسب ردعمل كا اظہار كریں، اور ہمیں اس بات كا بھی خدشہ ہے بعض عرب ممالك امريكہ كو راضی كرنے اور اس كا اعتماد حاصل كرنے كے لئے تحريك مزاحمت پر دباو ڈالیں كہ وہ جنگ بندی كے لئے اپنی شرائط ختم كر دے۔
آخر میں انہوں نے تاكيد كی كہ اگر عرب ممالك يكجہتی كا اظہار كریں تو غزہ كامياب ہوسكتا ہے۔
1139227