ايران كی قرآنی خبررساں ايجنسی ﴿ايكنا﴾ نے "المنار" نیٹ ورك سے نقل كيا ہے كہ عاشورا كے دن حزب اللہ كے سيكرٹری جنرل نے بيروت میں "الرایہ" اسٹیڈيم میں لاكھوں عزاداران حسينی سے خطاب كرتے ہوئے كہا: حزب اللہ كا واحد دشمن صیہونی حكومت ہے اور داخلی اختلافات كے ذريعے ہمیں دشمن كو خوش نہیں كرنا چاہیے۔
سيد حسن نصراللہ نے كہا كہ اسلامی جمہوری ايران عرب اور اسلامی ملكوں كا دوست اور حامی ہے اور یہ بات عرب اور اسلامی اقوام پر روز بروز واضح ہوتی جا رہی ہے كہ ايران ان كی حمايت كرنے والا اور ان كا دوست ہے۔
انہوں نے كہا كہ یہ بات غزہ پر صیہونی حكومت كی حالیہ جارحيت اور اس سے پہلے لبنان پر جارحيت میں ثابت ہوچكی ہے۔
سيد حسن نصراللہ نے كہا كہ میں ان لوگوں كو جو صیہونی حكومت كے بجائے ايران كو خطرہ قرار ديتے ہیں خبردار كرتا ہوں كہ یہ لوگ شعوری يا لاشعوری طور پر صیہونی حكومت كے مفادات كی راہ میں قدم اٹھا رہے ہیں۔
انہوں نے كہا كہ اسلامی جمہوری ايران صیہونی حكومت كے خلاف تحريك مزاحمت كی حمايت كرنا اپنا دينی اور ايمانی فرض سمجھتا ہے اور اس كے صلے میں كچھ نہیں چاہتا۔
حزب اللہ كے سيكرٹری جنرل نے كہا فلسطين حزب اللہ كے ايمان و ذمہ داری كا حصہ ہے اور یہ ذمہ داری فلسطين كو صیہونی چنگل سے آزاد كرانے تك باقی رہے گی۔
حزب اللہ لبنان كے سيكرٹری جنرل سيد حسن نصر اللہ نے كہا كہ بعض حلقے غزہ میں تحريك مزاحمت كی كاميابی كو خدشہ دار كرنا چاہتے ہیں ليكن غزہ پر صیہونی حكومت كی آٹھ روزہ جارحيت میں استقامت كو اسی طرح كاميابی ملی ہے، جس طرح 2006ء میں 33 روزہ جنگ میں ملی تھی۔
سيد حسن نصراللہ نے غزہ میں صیہونی حكومت كی شكست كی طرف اشارہ كرتے ہوئے كہا كہ صیہونی حكومت جب غزہ میں فلسطينی استقامت كے ميزائلوں سے لڑكھڑا جاتی ہے تو وہ اس وقت كيا كرے گی، جب اس پر چاروں طرف سے ہزاروں ميزائل برسیں گے۔
1142969