ايران كی قرآنی خبررساں ايجنسی ﴿ايكنا﴾ نے "باب" نیٹ ورك سے نقل كيا ہے كہ فلسطين كی منتخب حكومت كے وزيراعظم اسماعيل ھنیہ نے گذشتہ روز جنگ غزہ كے دوران صیہونی جارحيت كا شكار ہونے والے میڈيا كے دفاتر كا دورہ كرنے كے دوران كہا: صیہونی حكومت كے وزير جنگ ایہود باراك كا استعفٰی اور سياست چھوڑنے كا اعلان اس قابض حكومت كی بہت بڑی شكست ہے۔ اور انہوں نے اس استعفٰی كو حالیہ آٹھ روزہ غزہ كی جنگ كا نتيجہ قرار ديا۔
اسماعيل ھنیہ نے كہا اگر صیہونی حكومت كے وزير جنگ كے استعفٰی كی خبر درست ہے تو یہ بات وثوق سے كہی جا سكتی ہے یہ استعفٰی حالیہ جنگ غزہ كے دوران فلسطينی تحريك مزاحمت كی ايك بہت بڑی كاميابی اور صیہونی وزارت جنگ كی ايك بہت بڑی شكست كا نتيجہ ہے۔
انہوں نے كہا ہمیں موصول ہونے والی اطلاعات كے مطابق ایہود باراك كے اصرار پر ہی یہ جنگ شروع ہوئی تھی اور وہ اسے جاری ركھنے پر بضد تھا۔
فلسطين كے منتخب وزيراعظم نے كہا وہ اور ان كی حكومت میڈيا كے دفاتر اور خبرنگاروں پر اسرائيلی حملے اور جارحيت پر ان سے اظہار ہمدردی كرتی ہے۔
اسماعيل ہنیہ نے كہا فلسطينی حكومت صیہونی حكومت كے جنگی جرائم سے پردہ اٹھانے اور دنيا كو اس كا حقيقی چہرہ دكھانے والے میڈيا كی ہميشہ سے حامی رہی ہے اور آئندہ بھی ان كی بھرپور حمايت كرے گی۔
اسماعيل ھنیہ نے مزيد كہا وہ میڈيا كے ساتھ اپنی يكجہتی اور حمايت كا اظہار كرنے كے لئے آج یہاں پر آئے ہیں۔ انہوں نے مزيد كہا صیہونی حكومت كے ان جنگی جرائم كو جنہیں وہ چھپانا چاہتی تھی اور میڈيا نے ان كی مرضی كے خلاف اسے بين الاقوامی برادری میں آشكار كيا ہے، آپ كے ساتھ اپنی مكمل اظہار يكجہتی اور حمايت اعلان كرتا ہوں۔
ياد رہے كہ غزہ پٹی پر صیہونی حكومت كی 8 روزہ جارحيت كے نتيجے میں 3 فلسطينی خبرنگار شہيد اور 9 زخمی ہوئے تھے، اس كے علاوہ میڈيا كے دفاتر پر بمباری كے نتيجے میں القدس سٹيلائیٹ اور الاقصی ٹی وی چينل سميت میڈيا كے علاوہ ديگر 25 اداروں كا بھاری مالی نقصان بھی ہوا تھا۔
1143820