بين الاقوامی گروپ : تين دين سے منفی آٹھ ڈگری كی سردی میں سراپا احتجاج ۳ ہزار سے زائد مرد و خواتين اور بچوں كی آہوں اور سسكيوں كی آواز كے ملك اور دنيا بھر میں گونج اٹھنے كے بعد سياسی جماعتوں كی غلام گردشوں میں كھلبلی مچی اور حكمرانوں سے لے كر اپوزيشن تك تمام سياسی جماعتوں كے اكابرين كو ہزارہ برادی كے افراد كے دكھ میں شريك ہونے كا خيال آيا ہے ۔
ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی ﴿ايكنا﴾ نے اطلاع رساں ويب سائیٹ «985fm»، كے حوالے سے نقل كرتے ہوئے كہاہے كہ پاكستان كے مختلف شہروں اور بالخصوص كوئٹہ میں شيعوں كے قتل عام كے خلاف تين دن سے احتجاجی مظاہروں كا سلسلہ جاری ہے ۔
واضح رہے كہ سانحہ كوئٹہ كے خلاف علمدار روڈ پر شديد سردی كے باوجود كوئٹہ يكجہتی كونسل كی كال پر پچھلے ۵۴ گھنٹوں سے ۸۷ ميتوں كے ہمراہ دھرنا جاری ہے۔ سانحہ كوئٹہ میں پياروں سے بچھڑنے والوں كے زخموں پر تيسرے روز بھی مرہم نہ ركھا جاسكا جبكہ ۸۷ ميتیں اب بھی لحد میں اترنے اور لواحقين حكومت سے انصاف كے منتظر ہیں۔
خون جما دينے والی سردی میں آہوں اور سسكيوں سے كوئٹہ كی فضاء سوگوار ہے، لواحقين كراہ رہے ہیں اور ايك ہی سوال ہے كہ كيا كوئی ايسا ہے جو انہیں تحفظ دے سكے، حكومت تو یہ كام نہیں كر سكی لہذا اب شہر كو فوج كے حوالے كر ديا جائے ، قيامت صغری برپا ہوئی مگر ابھی تك صوبائی حكومت كا كوئی وجود نظر نہیں آيا ہے ۔
اسی طرح پاكستان كے ديگر بڑے شہروں میں بھی اب تك دھرنے جاری ہیں اور مخلتف جگوں پر روڈ بلاك كر كے احتجاج كيا جارہا ہے ۔
1170221