"شہر گناہ" میں مسلم اقليت كو درپيش مشكلات كے بارے میں گارڈين كی رپورٹ

IQNA

"شہر گناہ" میں مسلم اقليت كو درپيش مشكلات كے بارے میں گارڈين كی رپورٹ

23:55 - March 12, 2013
خبر کا کوڈ: 2510534
بين الاقوامی گروپ : اگرچہ كہ امريكہ بالخصوص "شہر گناہ" سے مشہور لاس ويگاس میں مسلمان ہونا اور اپنے مذہبی عقائد كی پيروی كرنا ايك دشوار كام ہے ليكن بہت سے باعقيدہ مسلمان دنيا كے اس گوشے میں بھی زندگی بسر كر رہے ہیں اور تمام تر مشكلات اور ركاوٹوں كے باوجود ان كی تعداد میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے ۔
ايران كی قرآنی خبررساں ايجنسی (ايكنا) كی رپورٹ كے مطابق برطانوی اخبار ، روزنامہ "گارڈين" نے امريكی رياست لاس ويگاس میں مقيم مسلم اقليت كے بارے میں ايك رپورٹ كے دوران لكھا ہے كہ امريكی رياست لاس ويگاس میں 10 ہزار مسلمانوں پر مشتمل ايك پائيدار معاشرہ زندگی بسر كر رہا ہے ۔
لاس ويگاس میں مقيم مسلمان باشندے "احمد اللہ يوسفزی" نے اس بارے میں خيال ظاہر كيا : بہت سے مسلمان یہ سوچتے ہیں كہ اس شہر میں زندگی بسر كرنا سراسر بےوقوفی ہے ۔ لیکن یہ بات جاننا ضروری ہے کہ اصلی مشکل انسان کے نفس میں ہے جس کو کنٹرول کرنے کے لیے مخصوص مکان کی نہیں بلکہ قوی ارادے کی ضرورت ہے ۔
1202675
نظرات بینندگان
captcha