آستان قدس رضوی كی خبر رساں اجنسی كی رپورٹ كے مطابق خراسان میں ولی فقیہ كے نمائندہ اور آستان قدس رضوی كے محترم متولی نے آستان مقدس علوی كے محترم متولی جناب شيخ ضياء محمد عبدالعزيز كے ساتھ ملاقات میں اظہار كيا:آج دنيا میں لوگ معارف اہلبيت علیہم السلام كے پياسے ہیں اور اُن كے لیے استفادے كے مناسب مواقع مہيا كرنا ضروری ہیں۔
انہوں نے عالم اسلام كے ثقافتی مراكز كے درميان وحدت پر تأكيد كرتے ہوئے اظہار كيا:اگر اسلامی ممالك كےتمام فعال اور سرگرم ثقافتی مراكز آپس میں باہمی اصولی اور منطقی ارتباط ركھتے ہوں تو عالمی معاشرے خاص طور پر جوانوں كی معنوی ضروريات كو پورا كرسكتے ہیں۔
آيت اللہ واعظ طبسی نے اپنے عراق كے مقدس مقامات كے گذشتہ زيارتی سفر كی طرف اشارہ كرتے ہوئے اظہار كيا:اس سفر میں ميرے لیے بہترين معنوی تحفہ حضرت اميرالمؤمنين علیہ السلام كی مقدس بارگاہ پر عشق،عقيدت اور ادب سے سرشار بوسہ دينا تھا۔
انہوں نے حضرت علی علیہ السلام كے حرم مطہر كے محترم متولی كی مشہد مقدس تشريف آوری پر اپنی خوشحالی كا اظہار كيا اور انہیں خوش آمديد كہتے ہوئے اميد ظاہر كی كہ یہ دو جانبہ سفر عالم اسلام میں وحدت و يگانگت كا باعث ہوں گے۔
مجمع تشخيص مصلحت نظام كے ركن نے مزيد كہا:مجھے اس امر میں شك نہیں كہ انشاء اللہ اس تعاون ،كوشش،وحدت اور دقيق پلاننگ كی بدولت حضرت اميرالمؤمنين علیہ السلام كے حرم مطہر كے علم مبارك كو عالم اسلام كے عظيم پيشوا كے عنوان سے دنيا میں لہرائیں گے۔
انہوں نے كہا:ان اقدامات كی بدولت دوسرا قدم حضرت ولی عصر(عج) كے حضور شرفيابی اور حضرتؑ كی عالمی حكومت كی قيام كا باعث ہوگا جو خداوندمتعال كی عنايت سے پایۂ تكميل تك پہنچےگا۔
آيت اللہ واعظ طبسی نے یہ بيان كرتے ہوئے كہ آج جمہوری اسلامی ايران اسلامی معاشرے كی حكيمانہ امامت كی بدولت عالم اسلام میں اقتدار اور گہرے اثرورسوخ كی نعمت سے سرفرازہے،كہا:ہمیں اميد ہے كہ خداوندمتعال كے فضل وكرم اور عراقی مسلمان عوام كی استقامت كے زيرسایہ امريكائی قوتين اس ملك كو چھوڑنے پر مجبورہوگئے ہیں اور اب عراقی حكومت كی تدبير،وحدت اور تمام گروہوں كی باہمی ہمدلی سے مختلف ميدانوں میں اس ملك كے جوانوں كی توانائيوں كی شكوفائی اور ترقی كا مشاہدہ كریں گے۔
آيت اللہ واعظ طبسی نے آستان قدس رضوی كی جانب سے مختلف ثقافتی،علمی،تعليمی اورتحقيقاتی ميدانوں اور زائرين كو خدمات فراہم كرنے كے امور میں باہمی تعاون كی آمادگی كا اعلان كرتے ہوئےكہا:مجمع جہانی اہلبيت(ع) نے بھی اس سلسلے میں اپنے تعاون اور تياری كا اعلان كيا ہے اور ہم اميد كرتے ہیں كہ آستان قدس رضوی كے تجربات عالم اسلام كے لیے مفيد واقع ہوں گے۔
اس ملاقات میں آستان مقدس علوی كے محترم متولی نے حرم مطہر رضوی میں حاضر ہونے پرخوشی كا اظہار كرتے ہوئے كہا:حضرت امام رضا علیہ السلام كے حضور اپنی عقيدت كے اظہار ، ارتباطات اور باہمی تعاون كے لیے حاضر ہوئے ہیں اور اميدوار ہیں كے آستان قدس رضوی كی مختلف ميدانوں میں توانائيوں سے استفادہ كریں۔
شيخ ضياء محمد عبد العزيز نے كہا:مشہد مقدس میں اپنے قيام كے دوران آستان قدس رضوی كی جانب سے زائرين كو فراہم كی جانے والی خدمات،حرم مطہر كے ثقافتی پروگرامز،رضوی متبرك اماكن كے توسيعی پروجيكٹس اور امام رضا(ع) يونيورسٹی كی فعاليات كا قريب سےمشاہدہ كيا ہے۔
اس ملاقات میں آستان مقدس علوی كی جانب سے حضرت علی علیہ السلام كے حرم مطہر كا علم مبارك آيت اللہ واعظ طبسی كو اہداء كيا گيا۔
قابل ذكر ہے كہ آستان مقدس علوی كے محترم متولی اور اُن كے ہمراہ ہيئت امام رضا(ع)بين الاقوامی يونيورسٹی كی دعوت پر ايران تشريف لائے ہیں تاكہ بارگاہ منور رضوی كی زيارت كے ساتھ اس يونيورسٹی كے جديد تعليمی شعبے جيسے(مذہبی اماكن كی مديريت) سے آشنا ہوں اور اس ذيل میں باہمی تعاون اور روابط قائم كریں اور اس سے پہلے امامين كاظمين علیہما السلام كے مقدس آستان كے محترم متولی بھی مشہد مقدس تشريف لائے تھے۔