انہوں نے کہا کہ ان میں ایک خدا سے رابطہ ہے، شہید آیت اللہ نمر کا خدا سے براہ راست اس قدر مضبوط رابطہ تھا کہ انہوں نے خود کو خدا کے آگے جھکا دیا اور آج دنیا ان کی مظلومانہ شہادت پر اپنے دلوں کو ان کیلئے جھکائے ہوئے ہے، شہید کی زندگی سے ملنے والے دیگر اہم پیغامات میں اپنے مقصد سے آگاہی، مقصد کیلئے قربانی اور عملی اقدامات ہیں، اگر اہداف واضع نہ ہوں تو قربانیوں کے باوجود مطلوبہ نتائج برآمد نہیں کئے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے پاکستان سعودیہ تعلقات پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سعودیہ پاکستان کو گیم چینجر سجھتا ہے، ہمارے حکمرانوں کو پاکستان کی عزت و سلامتی کا خیال رکھنا چاہئے پاکستان کی عزت کو عیاش آل سعود کی بجائے ملک کے مفادات کیلئے استعمال کرنا چاہئے، رہبر معظم سید علی خامنہ ای کی بھی یہی خواہش ہے کہ پاکستان کی عوام اپنی صلاحتیوں کا ادراک کریں۔ انہوں نے کہا کہ مکہ و مدینہ کو خطرہ کی صورت میں واللہ ہم بھی تحفط کیلئے جائیں گے کیونکہ دفاع حرمین کا درس ہمیں امام حسینؑ نےدیا ہے، دنیا کے تمام تجزیہ نگار کے قریب واضع ہے اور قوی امکان موجود ہے کہ پانج سال سے قبل آل سعود ختم ہونے والے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آل سعود کا حکومت و اقتدار کی خاطر دین سے مفاداتی تعلق ہے، جس کیلئے وہ خادمین حرمین شریفین کا ٹائٹل استعمال کئے ہوئے ہیں۔