ایکنا نیوز- اطلاع رساں ادارے «The Local»،کے مطابق فرانس کے وزیر داخلہ برنارڈ کازنو کے مطابق تین اسلامی ثقافتی مراکز کو کام سے روک دیا گیا ہے.
ان مراکز کے تعاون سے پیرس کے مضافاتی علاقے میں واقع مسجد «لانی سور مارن» میں بھی تبلیغاتی کام کیا جارہا تھا جسکو پیرس واقعے کے بعد سیل کیا گیا ہے حکام کے مطابق مذکورہ مسجد سے شدت پسندی کا درس دیا جاتا تھا
امام جمعه اور امام مسجد «محمد حامومی» پر الزام لگایا گیا تھا کہ وہ داعش میں افراد کو بھرتی کرانے کے لیے کام کررہا ہے
کازنو کے مطابق نفرت آمیز اور شدت پسندی کے لیے فرانس میں عدم برداشت کی پالیسی ہے اور ہمارے پاس شواہد موجود ہیں کہ ان مراکز میں شدت پسندانہ سرگرمیاں جاری تھیں
فرانس کے شہر «ژنویلیه» اور «لیون» میں بھی دو مساجد کو پیرس حملے کے بعد بندکردیا گیا ہے
کازنو کے مطابق اس سے پہلے کسی مسجد یا اسلامی مرکز کو بند ترین حالات میں بھی سیل نہیں کیا گیا مگر اس پیرس واقعے کے بعد عوامی اعتراضات اور دباو کے نتیجے میں مذکورہ اقدام اٹھایا گیا ہے