ایکنا نیوز- خطرناک اور خطرناک تر میں زیادہ فرق نہیں مگر اس میں پوشیدہ فرق کو سمجھنا بھی زیادہ مشکل کام نہیں۔
مغربی ممالک اسلام دشمن تبلیغات کو خوب ابھارتے ہیں اور انکے مقابلے میں عرب ممالک کا ردعمل بھی کچھ زیادہ ہی عجیب دکھائی دیتا ہے
گذشتہ روز ملعون زمانہ سلمان رشدی فرینکفرٹ کتاب نمائش میں حاضرہوا مگر شارلی ابدو میں شورمچانے والے عرب دنیا اس معاملے میں خاموش نظر آئی۔
یہ تو ظاہر ہے کہ کارٹون یا خاکے کے مقابلے میں کتاب زیادہ پائیدار ہے اور کتاب کے اثرات بھی زیادہ دیرپا ہیں
اور اس وقت جہاں قرآنی اور اسلامی تعلیمات کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے وہاں سلمان رشدی کی گمراہ کن کتابیں کسی زہریلے مواد سے کم نہیں جوحقیقی اسلام کے چہرے کو مخدوش کررہی ہیں۔
جسطرح سے تکفیری معاملے میں اگر روز اول سے بدعت پھیلانے والی کتابوں کی اشاعت کو روکا جاتا تو آج معاملہ اسقدر سنگین نہ ہوتا ۔
افسوس کا مقام ہے کہ فرینکفرٹ میں گمراہ اور توہین آمیز کتابوں کے مصنف سلمان رشدی آزادی سے کتاب نمائش میں مدعو کیے جاتے ہیں اور ایران کے سوا سارے اسلامی اور عربی ممالک خاموش رہتے ہیں
یہی عرب ممالک جو سلمان رشدی جیسے شخص کی گستاخی پر خاموش ہیں ایرانی فلم «محمد رسول الله(ص)» جو رسول اکرم کا حقیقی اور رحمت سے لبریز چہرے کو پیش کرتی ہے دیکھنے سے پہلے ہی مخالفت کا اعلان کرتے ہیں کیا یہ عجیب نہیں ؟!