ایکنا نیوز- اسپوٹینک نیوز کے مطابق لیبیا میں ایران کے سفیر کے کہنا ہے کہ اس ملک میں اسی فیصد داعشی ممبران دیگر بیرونی ممالک سے تعلق رکھتے ہیں اور بہت کم لوگ خود لیبیا کے رہنے والے اصل باشندے ہیں
اکبری نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ تکفیری دہشت گرد عناصر مختلف شعبوں اور اداروں میں اثر و رسوخ پیدا کرچکے ہیں
جبکہ عوام کی اکثریت انکو نہیں مانتی ہے ۔
انکا کہنا تھا
کہ مشرقی اور مغربی حصوں میں مخالفت کی وجہ سے داعش کو ملک میں مداخلت کا موقع ملا
اور ان میں اکثر لوگ دیگر ممالک کے دہشت گرد افراد ہیں
حسین اکبری کے مطابق لیبیا میں القاعدہ داعش سے زیاد مضبوط ہے اسی وجہ سے داعش
اکثر افراد کو دیگر بیرونی ممالک سے بلاتی ہے
انکا کہنا تھا کہ داعش نے آہستہ آہستہ مختلف علاقوں پر قبضہ کرنا شروع کیا اور اب
تیل کے زخائر کی طرف بڑھ رہی ہے۔