ایکنانیوز- نیوز نور کے مطابق پنجاب ہندوستان سے موصولہ اخباری بیانکے مطابقچندیگڑھ کے گونجی ماجرا موہالی نامی گاؤں میں 68 سال بعد ایک مسجد دوبارہ آباد کیااور اسطرحپنجاب کے موہالی ضلع کے گاؤں ماجرامیں ماحول اس وقت خوشگوار اور فضا نعرۂ تکبیر سے گونج اٹھی جب آزادی کے بعد سے بند پڑے خانۂ خدا میں ایک بار پھر نماز شروع کی گئی ۔
موصولہ اطلاع کے مطابقیہ خانۂ خدا مولانا آزاد ٹرسٹ بلوپور موہالی کے صدر حافظ مرتضی تیاگی کی انتھک جدو جہد اور پنجاب وقف بورڈ کے سابق چئر مین و ڈی جی پی پنجاب پدم شری اظہار عالم کے مخلصانہ تعاون کے چلتے آج آباد ہوگیا ۔ نماز کی امامت حافظ مرتضی تیاگی نے کراتے ہوئے باقاعدہ پنج وقتہ نماز کے شروع کرنے کا اعلان کیا۔اس موقع پر ماجرا گاؤں کے سرپنچ گورمیل سنگھ کے تعاون و باہمی اخوت کا ہر ایک مسلمان کی زبان پر چرچا تھا جنہوں نے مسجد کی چابی مولانا آزاد ٹرسٹ کے صدر اور دیگر اہل اسلام کے حوالہ کی ۔
قبل ازیں اپنے خطاب میں حافظ مرتضی تیاگی نے کہاکہ ہمیں اللہ کے حضور آج سجدۂ شکر ادا کرنا چاہئے کہ آج ہم اس کے ایک طویل عرصہ سے ویران پڑے گھر کی بازآدکاری کا حصہ بننے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں ،ضرور ی ہے کہ ہم اللہ سے ان اعمال کی قبولیت کی دعا کریں کہ اس کی رضا ہمیں نصیب ہو جائے ۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب وقف بورڈ نے بارہا واقعی اوقاف کے تحفظ کے سلسلہ میں بیداری کا ثبوت فراہم کرایا ہے کہ جب بھی کسی مسجد کے سلسلہ میں وقف بورڈ سے تعاون مانگا گیا تو کبھی یہ پیچھے نہیں ہٹے ، آج روپڑکے ایسٹیٹ آفیسر رضوان خان نے اس مسجد کے سلسلہ میں بھی ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کراکر ہماری حوصلہ افزائی کی جس کے ہم ممنون ہیں ۔
سابق ڈی جی پی پدم شری اظہار عالم نے مسجد کی بازآبادکاری میں ایڈمنسٹریشن سطح کے تعاون سے اس سنگ میل کو سر کرایا جو ان کی دینی حمیت کا غماز ہے ۔مسجد میں نماز کے وقت افتتاحی نماز میں دور دیہات اور چنڈیگڑھ کے علاقوں سے مسلم عوام نے شرکت کی۔اس موقع پر بھائی ولی محمدسمال فلیٹ دھناس، محمد سلیم ماجرا ،محمد اسلم دھناس،قمر عالم ،جگتار خان سارنگ پور،ڈاکٹر اسرائیل،حکیم مکرم علی،شفیق احمد لالڑو ،لیاقت علی،قاری ذاکر علی،ظہیر احمد،منیر عالم بلو پور وغیرہ موجود تھے ۔