بین الاقوامی گروپ: روایتی نظام عدل میں عوام کے بڑھتے عدم اعتماد اور سماج میں مذہبی تنظیموں کے بڑھتے اثر کے پیش نظر جماعت الدعویٰ نے شرعی قوانین کی روشنی میں عوام کو انصاف دلانے کے لیے صوبائی دارالخلافہ لاہور میں دارارالقضا شرعیہ قائم کر دیا
ایکنا نیوز-شفقنا- ڈان نیوز سے ایک ماہر قانون نے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ آئین پاکستان کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ تاہم جماعت الدعویٰ کا دعویٰ ہے کہ وہ صرف ثالثی کرے گی اور شریعت کی روشنی میں فیصلے کرے گی۔جماعت الدعویٰ کالعدم تنظیم نہیں ہے اور دعویٰ کرتی ہے کہ وہ خاص طور پر ملک کے قدرتی آفات سے متاثرہ شہروں میں خیراتی ادارے، اسپتال اور اسکول چلانے کے علاوہ اور بھی کئی سماجی بہبود کی خدمات انجام دیتی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ جماعت الدعویٰ کی ’ثالثی عدالت شرعیہ‘ نے انصاف کے لیے رجوع کرنے والے شہریوں کی شکایات درج کرنا اور مدعا علیہان کو شخصی طور پر یا کسی وکیل کے توسط سے حاضر ہونے کے لیے سمن جاری کرنا شروع کر دیے ہیں اور انتباہ بھی دیا ہے کہ حاضر نہ ہونے کی صورت میں شرعی قوانین کے تحت سخت کارروائی کی جائے گی۔ عالمی طور پر دہشت گرد قرار دئے گئے حافظ محمد سعید کے زیر قیادت کام کرنے والی جماعت الدعوۃ دراصل لشکر طیبہ کا متبادل نام ہے۔ کیوں کہ دہشت گردی میں ملوث ہونے کے سبب لشکر طیبہ پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ یہ سارے حقائق جاننے کے باوجود حافظ سعید کو نئے نام سے مذہبی جماعت قائم کرنے اور فلاحی کام کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ تاہم حافظ سعید اور ان کے ساتھی اکثر ملک کی خارجہ پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے بھارت کے خلاف اشتعال انگیز بیان بھی دیتے رہتے ہیں۔ حال ہی میں اس تنظیم نے تیس کے لگ بھگ دیگر تنظیموں کے ساتھ ملک کر ملک میں نظام مصطفیٰ کے قیام کی تحریک چلانے کا اعلان بھی کیا تھا۔ ملک کے آئین اور قانون کے تحت ہونے والی کوئی بھی کارروائی کسی بھی شخص یا گروہ کا جمہوری حق ہے۔ لیکن اگر کوئی گروہ خود کو قانون سے بالا سمجھتا ہے اور ملک میں متوازی نظام عدل قائم کرنے کی کوشش کرتا ہے تو مملکت کے سب اداروں کو اس کا سدباب کرنا چاہئے۔ حیرت انگیز طور پر لاہور کے ایک اعلیٰ پولیس افسر نے اخباری رپورٹر کے استفسار پر اس قسم کی ’عدالت‘ سے لاعلمی ظاہر کی ہے۔ اسی سے یہ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ملک کے انتظامی ادارے کس حد تک اپنے فرائض انجام دینے میں مستعد ہیں۔ جماعت الدعوۃ ملک کے مقتدر حلقوں کی اعانت اور سرپرستی سے متحرک ہوئی تھی اور انہی کے تعاون کی وجہ سے اسے اہمیت اور مقبولیت حاصل ہوسکی ہے۔ ملک کے بڑے شہروں کے سارے باشندے جانتے ہیں کہ حافظ سعید کو انتظامیہ کس طرح سیکورٹی اور پروٹوکول فراہم کرتی ہے۔ اس کے باوجود جماعت الدعوۃ کے مسلح اور سخت گیر گارڈ راستے بلاک کرنے اور شہریوں کو پریشان کرنے میں مصروف رہتے ہیں لیکن انتظامیہ ان کی ان غیر قانونی حرکتوں کو برداشت کرتی ہے۔ حیرت ہے کہ ایک طرف پاک فوج دیگر صوبوں کے بعد اب پنجاب میں دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کے خلاف سخت آپریشن کرنے میں مصروف ہے تو دوسری طرف ایسے گروہوں کو من مانی کرنے کی اجازت دی جا رہی ہے جو ملک کے قانون، حکومت اور نظام کو چیلنج کرنے کے لئے قانونی اور غیر قانونی ہتھکنڈے اختیار کرتے ہیں۔ جماعت الدعوۃ سمیت اس قسم کے متعدد گروہ اسلام کے نفاذ کی بات کرتے ہیں۔ لیکن وہ اس بات کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں کہ دین کے ماہرین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ حکومت کے اختیار کو چیلنج کرنا شرعی تقاضوں کے خلاف ہے۔ اسلام تمام شہریوں کو قانون مملکت کا پابند بناتا ہے۔ البتہ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ان کی تبدیلی کی کوشش ضرور کی جا سکتی ہے۔ جہاد کے نام پر دہشت گردی کرنے کے بعد اب جماعت الدعوۃ جیسی تنظیم متوازی عدالت قائم کرکے صرف ملک کے آئین کی ہی نہیں شرعی پابندیوں کی بھی خلاف ورزی کررہی ہے۔ اس سے ملک کے قانون کے علاوہ شریعت اور اسلام سے ان کے خلوص اور دیانت کا اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے۔