قوم و ملت کی سربلندی کیلئے ہماری جدوجہد بلاخوف و خطر جاری رہے گی، علامہ ناصر عباس جعفری

IQNA

قوم و ملت کی سربلندی کیلئے ہماری جدوجہد بلاخوف و خطر جاری رہے گی، علامہ ناصر عباس جعفری

17:34 - April 11, 2016
خبر کا کوڈ: 3500574
بین الاقوامی گروپ:پیروان اہل بیت کی ٹارگٹ کلنگ کی جا رہی ہے اور دوسری طرف نیشنل ایکشن پلان کے نام پر ہمارے ہی لوگوں کیخلاف مقدمات بھی درج ہو رہے ہیں
ایکنا نیوز-اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے نئے منتخب سیکرٹری جنرل علامہ ناصر عباس جعفری نے اپنے عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد تنظیمی عہدیدران و کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ قوم و ملت کی سربلندی اور وطن کے استحکام کے لئے ہماری جدوجہد بلاخوف و خطر جاری رہے گی۔ کوئی بھی حکمران ہمیں ہمارے اصولی موقف سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں بلاتخصیص مسلک و مذہب دو گروہ ایک دوسرے کے مقابلے میں صف آرا ہیں۔ ایک گروہ مظلومین کا اور دوسرا ظالمین کا۔ ہمیں آپ ہمیشہ مظلوموں کے ساتھ کھڑا دیکھیں گے، پاکستان کے پاک وجود کو داعش سمیت کسی بھی دہشت گرد طاقت کے نجس وجود سے آلودہ نہیں ہونے دیا جائے گا۔ وطن عزیز کو اس وقت لاتعداد چینلجز کا سامنا ہے، نفرتیں پھیلا کر قوم کو تقسیم کرنے کی مذموم کوشش کی جا رہی ہے، تاکہ پاکستان قوم متحد نہ ہوسکے۔ ہمیں اپنے اتحاد و اخوت کے عملی اظہار سے ان ناپاک ارادوں کو خاک میں ملانا ہوگا۔

علامہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ حکمران عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کی بجائے آئے روز گرتی ہوئی لاشوں کے تماش بین بنے ہوئے ہیں۔ ڈاکٹرز، پروفیسرز، ہونہار طلبہ اور علم کی روشنیاں بکھیرنے والوں سے زندگیاں چھینی جا رہی ہیں۔ ہمارے لوگوں کی ٹارگٹ کلنگ کی جا رہی ہے اور دوسری طرف نیشنل ایکشن پلان کے نام پر ہمارے ہی لوگوں کے خلاف مقدمات بھی درج ہو رہے ہیں۔ قانون انصاف کو طاقت کے زور پر پامال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد جتنا بڑا مجرم ہے، اتنا ہی بڑا مجرم اس کا سہولت کار بھی ہے۔ دونوں ملک کے امن و سکون اور انسانیت کے دشمن ہیں۔ علامہ ناصر عباس جعفری کا کہنا تھا کہ وطن عزیز کو امن کا گہوارہ بنانے کے لئے ان مذموم عناصر کو سختی سے کچلنا ہوگا۔ عالمی استکباری قوتیں پاکستان کو پھلتا پھولتا نہیں دیکھ سکتیں۔ ان کے حلقہ اثر سے آزادی ہی حقیقی آزادی سمجھی جائے گی۔ یہ طاقتیں قائد و اقبال کے اسلامی پاکستان کو مسلکی پاکستان کی شکل دینا چاہتے ہیں، تاکہ تصادم کی راہ ہموار ہو۔ اس ملک میں بسنے والے سنی، شیعہ، عیسائی، ہندو اور دیگر تمام مکاتب فکر کو مذہب و مسلک کی بنیاد سے آزاد ہو کر برابری کے حقوق حاصل ہیں۔
نظرات بینندگان
captcha