بین الاقوامی گروپ:1977ء میں نظام مصطفٰی کی تحریک چلائی تو وہ نظام مصطفٰی کہاں گیا؟ سب نے دیکھا کہ اس کے اندر سے نظام ضیاءالحق آیا، جس کو ہم آج تک بھگت رہے ہیں
ایکنا نیوز-اسلام ٹایمز سے گفتگو میں مجلس وحدت رہنما نے مذہبی جماعتوں کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہویے کہا کہ اس نظام مصطفٰی تحریک کے لیڈر کون ہیں؟، جناب مولانا فضل الرحمان صاحب ہیں، ان سے کوئی پوچھے جناب آپ وزیراعظم نواز شریف کی کابینہ میں کیوں بیٹھے ہو، پہلے وہاں سے تو نکلو، دوسرے لیڈر کون ہیں جناب سراج الحق، وہ خیبر پختونخوا حکومت کا حصہ ہیں، افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اگر آپ اپنے سیاسی مقاصد اور مفاد حاصل کرنا چاہتے ہو تو اپنا نام دو، قوم کو بتاو کہ پیر مولانا فضل الرحمان کا نظام، سراج الحق کا نظام اور مولانا سمیع الحق کا نظام لانا چاہتے ہیں۔ میرا ان سے سوال ہے کہ آپ نے 1977ء میں نظام مصطفٰی کی تحریک چلائی تو وہ نظام مصطفٰی کہاں گیا؟ سب نے دیکھا کہ اس کے اندر سے نظام ضیاءالحق آیا، جس کو ہم آج تک بھگت رہے ہیں، کلاشنکوف کلچر، تفرقہ، لسانیت، تمام برائیاں اسی نظام مصطفٰی کی کوکھ سے آئی ہیں، جنہیں ہم آج تک بھگت رہے ہیں۔ کیونکہ یہ شکست کھا چکے ہیں، عوام میں ان کی کوئی اخلاقی قدر نہیں رہی، اندر سے عوامی محبت کھو چکے ہیں، یہ اندر سے کھوکھلے ہوچکے ہیں، بڑے بڑے دہشتگرد ان کے گھروں سے پکڑے گئے ہیں، جماعت اسلامی کے لوگوں کے گھروں سے القاعدہ کے لوگ پکڑے گئے، انہوں نے شکست کھائی ہے، اب یہ لوگ نیا شوشہ چھوڑ رہے ہیں، ہاتھ میں نظام مصطفٰی کا پرچم لیکر چلنا چاہتے ہیں، یہ ان کا بہت بڑا فراڈ ہے، میرے خیال میں ان کی تحریک سے وہ کام جو طالبان نہیں کرسکے تھے، پاکستان پر قبضے کا، یہ اس طرف پاکستان کو لیکر جانا چاہتے ہیں۔ موجودہ مذہبی جماعتوں کی تحریک سے نظام طالبان آئے گا نظام مصطفٰی نہیں