ایکنا نیوز- اسلام ٹایمز سے گفتگو میں بھارت کے معروف شیعہ عالم دین مولانا غافر رضو ی نے کہا کہ تمام عالم اسلام از جملہ ملک یمن میں آل سعود کی جارحیت، ایک غیر انسانی حرکت ہے، اگر اس حرکت کو حیوانی حرکت سے تعبیر کیا جائے تو یہ بھی صحیح نہیں ہوگا کیونکہ اس جارحیت کو دیکھ کر دنیائے حیوانیت بھی لرز اٹھتی ہے اور حقیقت یہ ہے کہ جو انسان اس ظلم و ستم پر خاموش ہے، وہ انسانیت کے دائرہ سے خارج ہے۔ بالخصوص اسلام ہمیشہ ظالم کی مخالفت اور مظلوم کی حمایت کا درس دیتا ہے، اگر ہم کچھ بھی نہیں کر سکتے تو کم سے کم ظلم کے خلاف صدائے احتجاج تو بلند کرسکتے ہیں!انہوں نے داعش کے ظہور کے حوالے سے کہا کہ دشمن اسلام نئے نئے چہروں کے ساتھ دنیا کے سامنے آرہا ہے، جب وہ پہچان لیا جاتا ہے تو نقاب بدل کر سامنے آتا ہے، داعش کا وجود کوئی نیا نہیں ہے بلکہ یہ بہت پرانی تنظیم ہے، کبھی القاعدہ، کبھی سپاہ صحابہ، کبھی طالبان اور دور حاضر میں داعش کا نقاب اوڑھ کر سامنے آیا ہے۔ اس تنظیم کو اسلام و مسلمین سے کوئی مطلب نہیں ہے بلکہ یہ تنظیم صرف اپنا الو سیدھا کرنا جانتی ہے، چاہے اس سے اسلام کو کتنے ہی عظیم سانحات سے رو برو ہونا پڑے۔
جہاں تک اس فتنہ کے خاتمہ کا سوال ہے تو اس کا جواب یہ ہوگا کہ اس کا ختم ہونا یا مزید بڑھنا عالم اسلام پر موقوف ہے، اگر عالم اسلام چپ سادھے بیٹھا رہے اور گاندھی جی کے بندروں کا کردار ادا کرتا رہے تو اس کا خاتمہ ہوتا نظر نہیں آتا، البتہ اگر عالم اسلام ایک ہاتھ کی پانچ انگلیوں کی طرح ایک مشت محکم بن جائے اور اتحاد کا ثبوت دے تو دہشتگردی کے رخ پر ایسا کاری ضربہ لگے گا کہ اس کا جبڑا دنیا کا کوئی ڈینٹسٹ نہیں جوڑ پائے گا۔
انہوں نے داعش کے خاتمے مقابلے کے حوالے سے کہا کہ یران اور حزب اللہ ہمیشہ راہ حق پر گامزن رہتے ہیں، ان کا راستہ حق و عدالت کے زیر سایہ طے ہوتا ہے اور تاریخ شاہد ہے کہ راہ حق پر گامزن لشکر کی ہمیشہ فتح ہوئی ہے، اور قرآن نے بھی راہ حق پر گامزن افواج کو کامیابی کی سند دیتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے: آلا ان حزب اللہ ھم الغالبون، آگاہ ہوجاؤ کہ بے شک خداوند عالم کا لشکر ہی کامیاب ہے اور خداوند عالم کا لشکر وہی ہے جو راہ حق و حقیقت اور راہ عدالت پر گامزن ہے۔