فارن پالیسی کی ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کو فراہم کیے جانے والے سی بی یو 105 کلسٹر بم ٹیکسٹرون سسٹم نامی کمپنی بناتی ہے ۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ نے سعودی عرب کے یمنی تنازعہ میں شامل ہونے کے بعد حوثی باغیوں پر فضائی حملوں کے حوالے سے متعدد مواقع پر نشاندہی کی کہ سعودی عرب کی جانب سے کلسٹر بموں کا استعمال کیا جارہا ہے۔
واضح رہے کہ کلسٹر بم گولہ بارود کا ایسا مجموعہ ہے جس میں بہت سے چھوٹے چھوٹے بم موجود ہوتے ہیں اور طیارے سے گرائے جانے کے بعد یہ وسیع علاقے میں پھیل جاتے ہیں۔ اس قسم کے ہتھیار انتہائی خطرناک تصور کیے جاتے ہیں کیونکہ ان میں سے متعدد بم زمین کی تہہ میں چھپ جاتے ہیں اور ایک طویل عرصے تک بغیر پھٹے زمین میں موجود رہتے ہیں جو بارودی سرنگ کا کام کرتے ہیں ۔ کلسٹر بموں کا اکثر شکار عام شہری اور بچے بنتے ہیں