نمازتراویح سروے سے ہی کوئی نماز ہے ہی نہیں، جاوید احمد غامدی

IQNA

نمازتراویح سروے سے ہی کوئی نماز ہے ہی نہیں، جاوید احمد غامدی

14:08 - June 05, 2016
خبر کا کوڈ: 3500925
بین الاقوامی گروپ: معروف مذہبی اسکالر پروفیسر جاوید احمد غامدی کا کہنا ہے کہ رمضان المبارک میں مسلمانوں کی جانب سے باقاعدگی سے پڑھی جانے والی نماز تراویح سرے سے ہی کوئی نماز ہے ہی نہیں ہے
نمازتراویح سروے سے ہی کوئی نماز ہے ہی نہیں، جاوید احمد غامدی
ایکنا نیوز- ڈیلی قدرت کے مطابق پروفیسرغامدی کا کہنا ہے کہ ہمارے دین میں دن بھر میں ہم پر اللہ کی طرف سے 5نمازیں فرض کی گئی ہیں جن میں2رکعتیں فجر کے وقت،4رکعتیں ظہر کے وقت،4عصر کے وقت،3مغرب کے وقت اور4رکعتیں عشاء کے وقت ہیں ۔ یہ نمازیں ہر مسلمان پر فرض ہیں اس نے اتنی عبادت کرنی ہے خدا کے حضور میں حاضر ہونا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہمارے تعلق کا تقاضا ہے۔ پروفیسر غامدی کا کہنا ہے کہ عام مسلمانوں پر 5نمازیں اور رسول اللہ علیہ وسلم پر6نمازیں فرض کی گئی تھیں۔ اس کو قرآن میں سورہ بنی اسرائیل میں بھی بیان کیا ہے کہ ’’اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو ایک چھٹی نماز تہجد کا اہتمام بھی کرنا ہے اور یہ آپ کیلئے ایک زائد نمازہے‘‘۔اسی لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بڑے اہتمام کیساتھ باقی 5نمازوں کے ساتھ ساتھ تہجد کی نماز بھی پڑھتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کے شوق میں مسلمانوں نے بھی تہجد کی نماز پڑھنا شروع کر دی۔ اس کا ذکر بھی قرآن میں سورہ مزمل میں موجود ہے ’’صحابہ میں سے بھی کچھ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیساتھ تہجد کی نماز پڑھنے لگے‘‘۔ عام مسلمانوں کیلئے تہجد کی نماز نفل نماز ہے جسے کوئی بھی پڑھ سکتا ہے تاہم یہ نماز رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر فرض تھی۔ پھر رمضان کے ماہ میں لوگوں کی خواہش ہوتی کہ خصوصی طور پر رات کو اٹھ کر تہجد کی نماز پڑھیں ۔ تاہم بعض لوگ جو محنت مزدوری کرتے تھے انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ عرض کیا کہ کیا اللہ ہمیں اتنی رعایت دے سکتا ہے کہ ہم تہجد کی نماز عشاء کے ساتھ پڑھ لیں؟ تو اس کے جواب میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پڑھ سکتے ہو۔ تو ہم روزانہ عشاء کی نماز کیساتھ وتر پڑھتے ہیں یہ دراصل تہجد کی نماز ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نماز عشاء کے ساتھ ان لوگوں کو پڑھنے کی اجازت دی جو صبح جلد نہیں اٹھ سکتے تھے۔ پروفیسر غامدی کا کہنا ہے کہ یہ نماز دراصل رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر فرض تھی جسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم3،5،7،9اور 11رکعتوں کی صورت میں پڑھتے تھے۔ اسی حوالے سے ایک مرتبہ لوگوں کی جانب سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ آپ کو تو مکمل قرآن یاد ہے لیکن ہمیں مکمل یاد نہیں لہٰذا کیا ہم رکعتیں پڑھا سکے ہیں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بھی اجازت دے دی۔ چنانچہ تہجد کی نماز امام مالک کے زمان تک 3رکعتوں سے لے کر49رکعتوں تک پڑھی جاتی تھی۔ اس لئے تہجد نماز ہمیشہ تاک یعنی3،5،7اس ترتیب سے پڑھی جائے گی۔ تہجد کی نماز کبھی بھی 2،4یا6رکعتوں کی صورت میں نہیں پڑھی جائے گی۔ عام دنوں میں اس نماز کو وتر کی صورت میں پڑھا جاتا ہے۔ عربی میں وتر کہتے ہیں تاک کرنے کو ۔ اس نماز کا نام تراویح تب پڑا جب لوگ تہجد نماز کی زیادہ رکعتیں پڑھنے لگے اور آرام کے غرض سے 4رکعتوں کے بعد بیٹھ جاتے تھے۔ عربی میں اس بیٹھنے کو ترویحہ کہتے ہیں اور اس کی جمع ہے تراویح۔ اسی لئے اس نماز کا نام تراویح بھی ایسے ہی پڑا ۔ جاوید اہم غامدی کا کہنا ہے کہ لہٰذا یہ نماز دراصل تہجد کی نفل نماز ہے جسے پڑھنے سے اللہ آپ کو بے حد ثواب دے گا لیکن اگر آپ اسے نہیں پڑھتے تو اس سے آپ کے روزے پر اثر نہیں پڑے گا۔
نظرات بینندگان
captcha