
ایکنا نیوز- ترک اخبار «یئنی شفق» کے مطابق نسل پرستی کے حوالے سے کمیشن کے سربراہ «مارٹین گراف» کا کہنا ہے کہ اسلام کے نام ہر شدت پسندوں کی سرگرمیاں اسلامو فوبیا میں شدت کی اہم وجہ ہین اور نہ صرف سوئیزرلینڈ بلکہ پورے یورپ میں شدت آگیی ہے
انہوں نے اسلام اور تکفیری گروپوں میں تعلق کر رد کرتے ہوئے کہا کہ سوئیزرلینڈ کے باشندوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ مسلمان خود سب سے زیادہ ان گروپوں کا شکار بنے ہیں
مارٹین گراف نے مزید کہا: سوئیزرلینڈ میں اسلامو فوبیا کے حوالے سے رپورٹ ہم نے اعلی حکام کو پیش کردی ہے اور رپورٹ کے مطابق گذشتہ سال 240 واقعات رونما ہوچکے ہیں جبکہ سال ۲۰۱۶ کے ابتدائی پانچ مہینے میں یہ تعداد اس سے زیادہ ہو چکی ہے
کمیشن کے سربراہ نے اسلاموفوبیا کے واقعات کی روک تھام پر تاکید کرتے ہوئے کہا کہ مغرب کے حکام اس حوالے سے سنجیدہ دکھائی نہیں دیتے ۔