
ایکنانیوز- اطلاع رساں ادارے «filgoal» کے مطابق یورو کپ میں کیی مسلمان کھلاڑی اپنے ممالک کی نمایندگی کررہے ہیں۔
فرانس ٹیم میں «عادل رامی»، «موسی سیفوکو»، «پائول پوگبا» ، «باکاری سانیا» اور جرمنی کی ٹیم میں «مسعود اوزیل» اور «ایمری اسٹاین» مسلمان کھلاڑی شامل ہیں
بیلجیم کی ٹیم میں «مروان فلاینی» اور «موسی دِمبل» شامل ہے جبکہ ترکی اور البانیہ کی ٹیم میں تو اکثریت مسلمان کھلاڑیوں کی ہے۔
یورو کپ کے میچز ۳ ، ۶ اور ۹ بجے کھلائے جاتے ہیں جسکی وجہ سے اکثر مسلمان کھلاڑی روزہ دار ہوتے ہیں
«نیویورک ٹایمز»، نے اس حوالے سے ایک تحقیقی آرٹیکل شائع کیا ہے جسمیں امور غذا کے ماہر«رون موژان»، لکھتا ہے: «کھیل پر بہت سے چیزیں اثر انداز ہوتی ہیں مگر میرے خیال میں روزہ کا اس پر زیادہ اثر نہیں پڑتا».
فیفا میڈیک ڈاکٹر«مایکل دهوگ» نے ورلڈ کپ سے قبل تحقیق میں کہا تھا کہ
: «اگر کھلاڑی خوراک کا خیال رکھیں تو مناسب غذاوں کے استعمال سے پانی کی کمی کو کنٹرول کرسکتے ہیں».
کمبوڈیا کے مسلمان کھلاڑی «کولو توره» «لیورپول» میں کھیل رہا ہے کا کہنا ہے کہ روزہ کے پہلے پانچ دن سخت لگتا ہے مگر بعد میں جسم اسکا عادی بن جاتا ہے
مسعود اوزیل کی رائے البتہ کچھ اور ہے: «میچ کے دن روزے سے کھیلنا مشکل ہے اور میں صرف میچ کے دن روزہ نہیں رکھتا کیونکہ مناسب پانی اور خوراک کی ضرورت ہے!».
لیور پول کے پاکستانی نژاد میڈیکل ڈاکٹر«زاف اقبال»، کا کہنا ہے کہ روزہ اکثر افراد کے لیے کوئی خطرہ نہیں پیدا کرتا اور روزہ اس لیے فرض کیا گیا ہے تاکہ لوگ دنیا کے کروڑوں فقیروں اور ناداروں کی بھوک اور پیاس سے آشنا ہوسکے».
روزہ کے کھلاڑیوں پر
مثبت اثرات
روزہ کی وجہ سے جسم میں چربی کے کم از کم ۸ فیصد کم ہوجاتی ہے جس سے دل بہتر انداز سے خون پمپ کرسکتا ہے اور اس سے کھلاڑی کی کارکردگی پراچھا اثر پڑتا ہے
روزہ کی وجہ سے وزن میں اضافے کی مشکل حل ہوتی ہے اورکیی ماہرین غذا روزے کو بہترین ٹانک اور علاج بتاتے ہیں۔