
ایکنا نیوز- العالم نیوز چینل کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ روزنامہ انٹر نیسنل بزنس ٹایمزکے آرٹیکل میں انسانی حقوق تنظیم کے فعال رکن «زینت العیسی» کا کہنا ہے کہ جب بھی دنیا فراموش کرتی ہے تو سعودی ایک اور پھانسی کی جانب بڑھتا ہے
العیسی اپنے آرٹیکل بعنوان «دنیا متحد ہوجائے تاکہ علی محمد کا قتل نہ ہو» میں لکھتی ہے
مظاہروں میں شرکت کی وجہ سے ہر پل اس بات کا خطرہ موجود ہے کہ علی محمد النمر کو پھانسی دی جائے کیونکہ آل سعود کے شدت پسند حامی سوشل میڈیا پر انکے خلاف پروپگنڈہ کررہے ہیں
رایٹر کا کہنا ہے کہ علی النمر پر جان بوجھ کر اب
ایک سیکورٹی فورس کے قتل کے بے بنیاد الزام لگایا جارہا ہے اور اس سے اندازہ لگایا
جاسکتا ہے کہ انہیں بھی انکے چچا کی طرح سولی پر چڑھانے کا پروگرام بنایا جارہا ہے۔
اگست ۲۰۱۵ کو علی النمر کو پھانسی دینے کا حکم صادر کیا گیا مگر یورپ اور دیگر ممالک کی جانب سے شدید اعتراضات کے بعد پھانسی پر عملدرآمد کو روک دیا گیا ہے
العیسی کا کہنا ہے کہ اگر عالمی اداروں کا دباو نہ ہوتا تو اسی دن انہیں پھانسی ہوتی مگر اسکا مکمل خطرہ اب بھی موجود ہے کیونکہ آل سعود سے رحکم کی توقع بیکار ہے
قطیف کے باشندے ایک اور شیعہ جوان محمد الحواج کو بھی پھانسی کی سزا سنائی گئی ہے اور مزید
پچیس افراد کے حوالے سے سخت سزاوں کی توقع
ظاہر کی جارہی ہے۔