ایکنا نیوز- اسلام ٹایمز- مرجع جہان تقلید حضرت آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی اور مجمع جہانی اہل بیت کے سیکرٹری جنرل آیت اللہ اختری نے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سیکرٹری جنرل علامہ ناصر عباس جعفری کو بھوک ہڑتال ختم کرنیکا حکم دیدیا ہے۔ علامہ ناصر عباس جعفری کے نام لکھے گئے پیغام میں آیت اللہ حضرت ناصر شیرازی مکارم نے کہا ہے کہ علامہ ناصر عباس اور ان کے رفقاء نے پاکستان میں پیروان اہلبیت علیہ السلام کے حقوق کی خاطر بھوک ہڑتال کے ذریعے بڑی جاں فشانی کی ہے اور اس کی بازگشت دنیا کے مختلف گوشوں تک پہنچنے کے ساتھ ساتھ الحمد اللہ قابل ملاحظہ نتائج بھی برآمد ہوئے ہیں۔ میں علامہ ناصر عباس جعفری اور ان کے رفقاء سے گذارش کرتا ہوں کہ اپنی جان کی حفاظت کی خاطر اس بھوک ہڑتال کو ختم کر دیں۔ اسی طرح مجمع اہل بیت کے سیکرٹری جنرل حضرت آیت اللہ اختری نے کہا ہے کہ اس میں کس قسم کا کوئی شک نہیں کہ دشمن یعنی امریکہ، صیہونیت اور تکفیریت کو جس چیز نے خوفزدہ کیا ہوا ہے، وہ اس ملک (پاکستان) میں آپ اور آپ جیسے دیگر بیدار علمائے کرام کی موجودگی ہے، جو پاکستانی قوم خواہ شیعہ ہو یا سنی، سب میں اتحاد و یگانگت کی کوششوں کے ساتھ ساتھ عوام کی رہنمائی کی ذمہ داری اٹھائے ہوئے ہیں۔۔۔۔
متن کے خطوط ( ترجمہ) پیش کی جاتی ہیں
بسمہ تعالٰی
حضرت حجۃ الاسلام والمسلمین جناب الحاج شیخ راجہ ناصر عباس جعفری دام عزہ العالی
سیکرٹری جنرل مجلس وحدت مسلمین پاکستان
اسلام علیکم!
امام خمینی کے شاگرد اور پاکستانی ملت تشیع کے قائد ’’علامہ عارف حسین الحسینی‘‘ کی شہادت کی 28 ویں برسی کے موقع پر مجھے اور اہلبیت اسمبلی کے ممبروں کو آپ کی بگڑتی صحت کی خبر موصول ہوئی ہے کہ جس نے ہمیں آپ کی خیریت و عافیت کے بارے میں پریشان کر دیا ہے۔ پاکستان میں پیروان اہلبیت (ع) کے شعور کی بیداری اور محمد و آل محمد (ع) کی محبت میں استقامت زبان زد خاص و عام ہے۔ لاکھوں پاکستانی شیعہ صدیوں سے استعماری سازشوں اور تکفیریوں کی جانب سے قتل عام کے باوجود خاندان رسالت مآب کے علَم کو اونچا رکھے ہوئے ہیں اور مراسم عزاداری کو جذبے کے ساتھ منعقد کرتے ہیں، نیز دین مقدس اسلام کے اس راستے پر ہزاروں شہید پیش کئے ہیں۔ اس میں کس قسم کا کوئی شک نہیں کہ دشمن یعنی امریکہ، صیہونیت اور تکفیریت کو جس چیز نے خوفزدہ کیا ہوا ہے، وہ اس ملک میں آپ اور آپ جیسے دیگر بیدار علمائے کرام کی موجودگی ہے، جو پاکستانی قوم خواہ شیعہ ہو یا سنی، سب میں اتحاد و یگانگت کی کوششوں کے ساتھ ساتھ عوام کی رہنمائی کی ذمہ داری اٹھائے ہوئے ہیں۔ نیز معاشرے میں امن و امان کی برقراری، لوگوں میں محبت اور دوستی کی کوشش کرتے رہے ہیں، جبکہ دشمن کی کوشش ہے کہ فرقہ واریت ایجاد کرے اور تکفیری گروہوں کی پشت پناہی کرکے برادر کشی اور قتل و غارت کی فضا بنائے، تاکہ اس طرح دین کے حقیقی و اعتدال پسند، وحدت اور بھائی چارگی کو فروغ دینے والے علمائے کرام و رہنماؤں سے میدان کو خالی کرے۔ لہٰذا آپ جیسی قیمتی شخصیات کی سلامتی قرآن و عترت کے دشمنوں کیلئے ہر چیز سے زیادہ تکلیف دہ ہے۔
آپ اور آپ کے دیگر رفقائے کار، دیگر برادران و خواہران کی پاکستان کے مختلف شہروں میں پچاسی روزہ بھوک ہڑتال، دھرنے اور استقامت قابل قدر ہے، لیکن اب شیعہ مرجعیت کی خواہش کے مطابق، نیز پاکستانی حکومت کے ذمہ داروں کے وعدوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے، خاص طور پر جو کچھ وزیر داخلہ جناب چوہدری نثار کی جانب سے گذشتہ روز بیان ہوا۔ اس روشنی میں آپ سے گذارش ہے کہ اس وقت (عارضی) طور پر اس بھوک ہڑتال کو ختم کر دیں اور یہ اعلان کر دیں کہ مطالبات کی عدم منظوری کی صورت میں دوبارہ اپنے لائحہ عمل پر عمل پیرا ہوں گے۔ اہلبیت اسمبلی بھی پاکستان کی عوام اور بردار و دوست ملک کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے دہشتگردی اور تکفیریت کے خاتمے کے لئے مکمل تعاون کو یقینی بنانے کی یاد دہانی کراتی ہے۔ تمام عالم اسلام کی عزت و عظمت اور کامیابی و فتح نیز حوزہائے علمیہ، یونیورسٹیوں، درسگاہوں، دہشتگردی اور قتل عام کے مخالف علمائے کرام، دانشمندوں، خاص طور پر جناب عالی کے لئے خدائے متعال سے دعا گو ہوں۔
و لله العزّة و لرسوله و للمؤمنین
والسلام علیکم و رحمة الله و برکاته
محمد حسن اختری سیکرٹری جنرل انٹرنیشنل اہلبیت اسمبلی
۔۔
ناصر مکارم
جناب محترم حجت الاسلام والمسلمین راجہ ناصر عباس جعفری دامت تأییداته
ہدیہ سلام
جناب عالی! آپ اور آپ کے رفقاء نے پاکستان میں پیروان اہلبیت (ع) کے حقوق کی خاطر بھوک ہڑتال کے ذریعے بڑی جاں فشانی کی ہے اور اس کی بازگشت دنیا کے مختلف گوشوں تک پہنچنے کے ساتھ ساتھ الحمد اللہ قابل ملاحضہ نتائج بھی برآمد ہوئے ہیں۔ میں آپ جناب اور آپ کے رفقاء سے گذارش کرتا ہوں کہ اپنی جان کی حفاظت کی خاطر اس بھوک ہڑتال کو ختم کر دیں۔ حکومت پاکستان سے کہتا ہوں کہ ہم ہمیشہ مشکل حالات میں ان کا دفاع کرتے رہے ہیں۔ ہم توقع رکھتے ہیں کہ آپ کے جائز مطالبات اور اسی طرح پاکستان کی پوری مسلم قوم خاص طور پر اہل تشیع کے مطالبات کا جواب مثبت انداز سے دے گی، یہ حکومت پاکستان سے امن و امان اور مختلف مذاہب کے پیروکاروں کے حقوق کے سوا کچھ نہیں چاہتے، ہمارا نہیں خیال کہ وہ (پاکستانی حکومت) شہریوں کے ان حقوق کی اہمیت سے واقف نہ ہو۔ پاکستانی کی پوری عوام، خاص طور پر اہل تشیع کی کوشش ہونی چاہیے کہ وہ وحدت اور معاشرتی امن و سکون کو برقرار رکھتے ہوئے اپنے حقوق کی جدوجہد کو جاری رکھیں اور ان شاء اللہ وہ اپنے حقوق حاصل کرنے میں کامیاب ہونگے۔
ہمیشہ کامیاب اور سربلند رہیں
ناصر مکارم شیرازی