سعودی عرب کو یمن میں کھلی چھوٹ کیوں دی جاتی ہے؟

IQNA

سعودی عرب کو یمن میں کھلی چھوٹ کیوں دی جاتی ہے؟

13:29 - August 17, 2016
خبر کا کوڈ: 3501379
بین الاقوامی گروپ:سعودی عسکری اتحاد یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف عسکری کارروائی کا سلسلہ بدستور جاری رکھے ہوئے۔ تاہم ابھی تک باغیوں کو دارالحکومت صنعاء اور دیگر اہم مقامات پر پسپا کرنے کی تمام تر کوششیں ناکام ہوتی جا رہی ہیں۔
سعودی عرب کو یمن میں کھلی چھوٹ کیوں دی جاتی ہے؟

ایکنا نیوز- شفقنا- یمن میں سعودی عسکری اتحاد کی طرف سے ایک اسکول پر اس حالیہ حملے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس میں مبینہ طور پر دس بچے شہید جبکہ دیگر دو درجن زخمی ہو گئے تھے۔ اس حملے کی اقوام متحدہ نے بھی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔

بین الاقوامی فلاحی طبی ادارے ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز نے یمن کے شہر عبس میں ایک اسپتال پر اتحادی افواج کی فضائی بمباری سے 4 ڈاکٹروں سمیت 15 افراد کی جاں بحق کا دعویٰ کیا ہے۔

تاہم یمن میں انسانی حقوق کی سرکردہ کارکن ہشام العمیسی کے بقول یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ عالمی ادارے کے سربراہ بان کی مون نے یمن میں سعودی عسکری اتحاد کی طرف سے کی گئی کسی فضائی حملے کی مذمت کی ہو۔

ڈی ڈبلیو سے خصوصی گفتگو میں ہشام نے کہا کہ اقوام متحدہ گزشتہ سولہ مہینوں سے ایسے حملوں کی صرف مذمت ہی کرتا رہا ہے جبکہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برداری ان حملوں کی آزادانہ تحقیقات بھی نہیں کرا سکی ہے۔

ہشام کے مطابق سعودی عرب کے مقابلے میں یمن ایک چھوٹا اور غریب ملک ہے اور عالمی برداری کو اس ریاست میں کوئی دلچسپی نہیں کیونکہ وہ نہ تو یہاں تجارت کر سکتی ہے اور نہ اسے کوئی اور مالی فائدہ ہو سکتا ہے۔ لیکن سعودی عرب عالمی برداری کا ایک اہم اتحادی ملک ہے اور اس لیے اسے ’کھلی چھوٹ‘ ملی ہوئی ہے۔ انہوں نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے مزید کہا، ’’یمن میں انسانی زندگی کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔‘

نظرات بینندگان
captcha