بین الاقوامی گروپ:وزیر اعظم نیتن یاہو کو اس وقت خفت کا سامنا کرنا پڑا جب دورہ ہالینڈ کے دوران خارجہ امور کمیٹی کے ارکان سے تعارف کے دوران ایک رکن پارلیمنٹ نے ان کا ہاتھ جھٹک دیا اور مصافحہ سے انکار کردیا۔
ایکنا نیوز- شفقنا- تناہن کزو نے کہا کہ انہوں نے یہ اقدام 2014 میں فلسطینیوں کیخلاف اسرائیلی آپریشن پربطور احتجاج اٹھایا ہے ۔ اسرائیل کے خلاف کسی ملک کی نفرت کا یہ پہلا اظہار نہیں ہے کچھ عرصہ قبل برطانیہ کے سینکڑوں ماہرین تعلیم نے اسرائیل میں فلسطینیوں کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مخالفت میں اسرائیلی تعلیمی اداروں کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ’دی گارڈین‘ اخبار میں 72 تعلیمی اداروں کے 343 ماہرین تعلیم کے دستخط کے ساتھ یہ اعلان شائع ہوا تھا۔دی گارڈین میں یہ اعلان پورے صفحے پر شائع ہے جسے ’فلسطینوں کے حقوق کے لیے برطانوی سکالز کے عہد‘ کا نام دیا گيا تھا۔اس اعلان میں کہا گیا ہے: ’ہم لوگ فلسطینی زمین پر اسرائیل کے ناجائز قبضے اور اس مسئلے کے ممکنہ حل کی اسرائیل مخالفت سے بہت پریشان ہیں۔ اس کے تحت انسانی حقوق کی ناقابل برداشت پامالی ہو رہی ہے اور اس سے فلسطین میں تمام شعبے کے افراد متاثر ہیں۔ اسی طرح لاطینی امریکا کے ملک جمہوری چلی کی جامعات نے بھی اسرائیل کے تعلیمی بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا ۔ مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق چلی کی جامعات میں طلباء کے نمائندہ ’اسٹوڈنٹ الائنس‘ نے کہا تھا کہ حال ہی میں اسرائیل کے تعلیمی بائیکاٹ کے حوالے سے ایک ریفرنڈم کرایا گیا جس میں 56 فی صد طلباء نے اسرائیل کے تعلیمی بائیکاٹ کی حمایت میں رائے دی۔ اس اعلان کے بعد طلباء یونین اور دیگر اداروں کی جانب سے اسرائیل کے تعلیمی بائیکاٹ کا اصولی فیصلہ کیا گیا ۔ علاوہ ازیں برطانیہ میں اسرئیلی مصنوعات کےبائیکاٹ کی تحریک BDS کامیابی کے ساتھ جاری و ساری ہے۔ اس تحریک کے نتیجے میں برطانیہ کی کئی مقامی دیہی کونسلوں اور حکومتی اداروں کو اسرائیل میں سرمایہ کاری کا فیصلہ واپس لینے پرمجبو کرتے ہوئے اپنی کامیابی یقینی بنائی ہے۔ دوسری جانب اگرمسلمان ممالک کے رویے کو مدنظر رکھا جائے تو سر شرم سے جھک جاتا ہے۔ عالم اسلام کے نام نہاد خادمین حرمین شریفین نہ صرف عالم اسلام کے مسائل کو حل کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں لیکن اب اس کا منافقانہ اور ظالمانہ چہرہ عالم اسلام کے سامنے نمایاں ہوگيا ہے سعودی عرب اور اسرائیل کا باہمی رابطہ اور تعاون پہلے خفیہ لیکن اب آشکار ہوگیا ہے۔عربوں کی سب سے بدترین صورتحال یہ ہے کہ سعودی عرب کے اس سے قبل اسرائیل کے ساتھ خفیہ روابط تھے جو اب آشکار ہوگئے ہیں۔موساد کے سربراہ نے گذشتہ سال دسمبر کے مہینے میں خفیہ طور پر سعودی عرب کا دورہ کیا تھا جہاں انہوں نے اپنے سعودی ہم منصب سے ملاقات کی تھی- اس اخبار کے مطابق سعودی عرب اسرائیل کیلئے عنقریب تیل کی فروخت شروع کردےگا- اخبار "یسرائیل ہایوم” نے سعودی عرب کے وزیرپٹرولیم علی النعیمی کے حوالے سے لکھا ہے کہ ریاض دنیا کے ہر ملک کو تیل فروخت کرنے کیلئے آمادہ ہے، جس کے نتیجے میں سعودی عرب کی جانب سے اسرائیل کیلئے تیل کی فروخت بعید نہیں ہے-اخبار نے النعیمی کے حوالے سے یہ بھی انکشاف ہے کہ دنیائے عرب کے بیشتر ممالک، اسرائیل کو باضابطہ طور پر تسلیم کرتے ہیں جس کی بنا پر اسرائیل کے ساتھ تجارتی تعاون میں کوئی رکاوٹ نہیں۔ دوسری جانب ترکی نے چھ سال کے وقفے کے بعد اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال کردئیے ہیں۔ اقوام متحدہ کی جانب سے اس بات کا خیرمقدم کیا گیا ہے۔ترک وزیر اعظم بن علی یلدرم نے دو طرفہ تعلقات کی بحالی کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ اسرائیل کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کے تحت اسرائیل 2010ء میں ترک بحری جہاز پر حملے میں ہلاک وزخمیوں کے لواحقین کو 2 کروڑ ڈالرز ہرجانہ ادا کرے گا،ساتھ ہی ترکی غزہ کے شہریوں کو امداد اسرائیلی بندرگاہ اسدود کے ذریعے ترسیل کرے گا۔ دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ترکی کے ساتھ معاہدے میں غزہ پٹی پر عائد حصار کا خاتمہ شامل نہیں ہے۔مزید کہا کہ یہ معاہدہ اقتصادی وسلامتی اہمیت کا حامل ہوگا جس کے ذریعے اسرائیل اپنی گیس ترکی کے ذریعے یورپ برآمد کرسکے گا۔ ایسی صورتحال میںغیر مسلم ممالک کے فلسطین کی حمایت میںایسے دلیرانہ اقدامات اور مسلمان ممالک کے بھیانک چہروں کو دیکھ کر لگتا ہے کہ مسلمان ممالک کے حکمران اب حکمرانی کا اخلاقی جواز کھو چکے ہیں اور ہر قسم کی شرم کو با لائے طاق رکھ کر اسرائیل کے قدموں میں جھکے ہوئے ہیں۔