
ایکنا نیوز- مجلس وحدت مسلمین کے صوبائی سیکریٹریٹ میں ایک پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس سے مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی قائد علامہ راجہ ناصر عباس، ایم پی اے آغا رضا اور کوئٹہ کے سیکریٹری جنرل عباس علی نے خطاب کیا۔
خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ وطن عزیز پاکستان کے موجودہ حالت سے ہم سب بخوبی واقف ہیں. بدعنوانی، غربت، حق زنی اور دیگر غیر اخلاقی جرائم دن بہ دن عام ہوتی جارہی ہے. جب بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے اس ملک کو بنایا تھا تو وہ چاہتے تھے کہ پاکستان ایک ایسی سرزمین ہو جہاں قانون اللہ کا نظام ہو اور مسلمان قرآن کے سائے میں اس ملک کو چلائے. ایک ایسا ملک ہو جہاں اقلیتوں کو تحفظ ملے اور جہاں تمام افراد اپنی زندگی پرامن طور پر بسر کر سکے. مگر ہمارے سابقہ حکمرانوں نے اپنے بعض فیصلوں اور پالیسیوں سے قائد کے اس پاکستان کو محظ ایک خواب بنا کر رکھ دیا جو آج تک اپنے تعبیر کو نہ پہنچ سکی.
اس مقصد کیلئے مجلس وحدت مسلمین روز اول سے جدوجہد کرتی آرہی ہے۔ انہوں نے زائرین کو درپیش مسائل کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہر سال ملک بھر سے ہزاروں زائرین مقدس مقامات کی زیارت کیلئے جاتے ہیں اور اس طرح ملک کو اقتصادی طور پر کافی فائدہ پہنچتا ہے. پچھلے سال ہمیں زائرین کے معاملے پر حکومت کی جانب سے بے شمار مشکلات کا سامنا رہا جو حکومت کی زائرین کے معاملے پر بے حسی کا مظاہرہ کرتی ہے اور قابل مذمت ہے.
زیارات کیلئے جانے والے لوگ پاکستانی عوام ہیں تو یہ پاکستان کی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ انہیں سہولیات فراہم کرے مگر یہاں کا حال یوں ہے کہ ہمیں اول تو سہولیات فراہم نہیں کی جاتی بلکہ حکومت اور انتظامیہ زائرین کیلئے دشواریاں پیدا کررہے ہیں.
ہمارا مطالبہ ہے کہ حکومت اور دیگر ادارے زائرین کو تنگ کرنا بند کردے اور عوامی فلاح کیلئے کام شروع کریں. بحیثیت پاکستانی، زائرین کی سیکورٹی اور سہولیات کا انتظام کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے . پچھلے سال حکومت کو شدید احتجاجوں کا سامنا کرنا پڑا اب یہ انکی ذمہ داری ہے کہ اپنے اہلیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے زائرین کو سہولیات فراہم کرے.