
ایکنا نیوز- رہبری ویب سایٹ کے مطابق رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی امام خامنہ ای نے عید سعید غدیرکی مناسبت سے ایرانی عوام کے مختلف طبقات سے ملاقات میں انکو عید کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے فرمایا: امامت و ولایت اسلامی حکومت کا اصلی ضابطہ ہے مسلمان جہاں کہیں ہو اسےاسلام کے فروغ کے سلسلے میں اہلبیت (ع) کی امامت کو انکی سیرت پر عمل کرکے احیا کرنا چاہیے۔
واقعہ غدیر اسلامی معاشرے میں حکومت کے قاعدے اور ضابطے کی بنیاد ہے اور یہ واقعہ ثابت کرتاہے کہ دین اسلام ضابطہ امامت و ولایت کے علاوہ، شاہی اور موروثی حکومتوں یا زور و زر اور شہوت پرستی اور اشرافی حکومتوں جیسے کسی بھی حکومتی ماڈل کو قبول نہیں کرتا ۔
آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام کی بے مثال خصوصیات خاص طور پر ان کی حکومتی خصوصیتوں منجملہ ان کے عدل و انصاف ، تقوا کی جانب معاشرے کی ہدایت اور دنیوی باتوں سے دوری اوراجتناب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ایمان کامل ، اسلام میں سبقت ، راہ اسلام میں فداکاری ، اخلاص ، ایثار، عفو و درگذرحضرت علی علیہ السلام کی اہم ترین معنوی اور انسانی خصوصیات ہیں - رہبرانقلاب اسلامی نے غدیر کے موضوع کی اہمیت کا ذکرکرتے ہوئے پیغمبراسلام کے لئے خدا وندعالم کے اس حکم کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ امامت کے تعین کے تعلق سے رسالت کا کام مکمل کردیا جائے فرمایا کہ یہ اسلامی عقیدہ محکم اور ناقابل انکار استدلال اور ماخذ پر استوار ہے لیکن اس عقیدے کو اس طرح سے بیان نہیں کیا جانا چاہئے کہ جس سے اہل سنت بھائیوں کے جذبات مشتعل ہوں کیونکہ کسی کے جذبات کو ٹھیس پہنچانا آئمہ معصومین علیھم السلام کی سیرت کے خلاف ہے ۔
رہبرانقلاب اسلامی نے عالم اسلام میں اتحاد کی اہمیت پر زوردیتے ہوئے فرمایا کہ شیعہ کے نام سے دیگر اسلامی فرقوں کے جذبات کو جو لوگ مشتعل کرتے ہیں درحقیقت وہ برطانوی شیعیت کے پیرو ہیں جس کے نتیجے میں داعش اورجبہہ النصرہ جیسے امریکا اور برطانیہ کی خفیہ ایجنسی سے وابستہ خبیث اور آلہ کار گروہ وجود میں آئے ہیں جنھوں نے علاقے میں بے شمار جرائم کا ارتکاب کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے - آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے فرمایا کہ ایران کے اقتصادی نظام میں دشمن اس لئے مشکلات پیدا کرنے کی کوشش کررہا ہے تاکہ ایرانی عوام اسلامی جمہوری نظام سے ناراض ہوجائیں - آپ نے استقامتی معیشت پر عمل پیرا ہونے کے بارے میں اپنی بار بار کی تاکیدات کا ذکرکرتے ہوئے فرمایا کہ ان حالات میں حکومت، پارلیمنٹ اور مختلف شعبوں کے حکام اور عوام کے ہر فرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ دشمن کے مقصد کو ناکام بنانے کے لئے اقدام اور منصوبہ بندی کریں - آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے فرمایا کہ ان بے شمار نوجوانوں کی برکت سے جو اسلام اور دین کے احیا کے لئے مسلسل کوششوں میں لگے ہوئے ہیں اسلامی جمہوریہ ایران مجموعی طور پر صحیح راستے پر گامزن ہے - آپ نے فرمایا کہ یہ نوجوان امریکا اور صیہونی حکومت جیسے ہر دشمن کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیں گے.
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے حضرت علی علیہ السلام کو عظیم اور جامع الاطراف شخصیت قرار دیتے ہوئے فرمایا: ان کی عظیم خصوصیات کی سمت حرکت ہماری ذمہ داری ہے ۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: شیعوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ اہلبیت علیھم السلام کے لئے زینت کا باعث بنیں اور انھیں نمونہ عمل قراردیکر ان کی پیروی اور اطاعت کریں جو لوگ رشوت لیتے ہیں ، بیت المال میں دست درازی کرتے ہیں ، معاشرے اور سماج کے بارے میں اپنی ذمہ داریوں سے واقف نہیں ایسے افراد شیعہ نہیں بلکہ شیعہ کے لئے عیب اور نقص کا باعث ہیں۔
انہوں نے ایران کے مستقبل کو تابناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ انقلابی اور مومن جوانوں کے عزم اور ایمان کی پختگی سے امیدیں وابستہ ہیں اور انہیں حقایق کو دیکھتے ہوئے ہم روشن مستقبل پر ایمان رکھتے ہیں۔