
ایکنا نیوز- ڈان نیوز کے مطابق ضلعی مجسٹریٹ مشتاق احمد کی جانب سے نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا جس کے مطابق ان علماء سے کہا گیا کہ’آپ کے بیانات و خطبات سے کشیدگی پیدا ہونے کا خدشہ ہے جو پہلے ہی مختلف مذہبی فرقوں کے درمیان موجود ہے اور اس کی وجہ سے انسانی جان و مال کو نقصان پہنچنے اور امن عامہ میں خلل آنے کا اندیشہ ہے‘۔
نوٹیفیکیشن میں کہا گیا کہ اسلام آباد کے 11 مقامی علماء دو ماہ تک اسلام آباد کی حدود میں کسی بھی عوامی اجتماع سے خطاب نہیں کرسکیں گے ان میں دیوبندی مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے 4، فقہ جعفریہ سے تعلق رکھنے والے 4 اور بریلوی مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے تین علماء شامل ہیں۔
اس کے علاوہ ایک اور نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا ہے جس کے تحت دیگر اضلاع سے تعلق رکھنے والے 16 علماء کا دو ماہ کے لیے اسلام آباد میں داخلہ ممنوع قرار دیا گیا۔
نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا کہ ’ملک میں سیکیورٹی کی موجودہ صورتحال اور دہشت گردی کے خطرے کے پیش نظر اس بات کے قوی امکانات موجود ہیں کہ اگر فرقہ وارانہ کشیدگی کی وجہ سے امن عامہ میں کوئی بھی خلل آیا تو اسے دہشت گرد اپنے فائدے کے لیے استعمال کرسکتے ہیں‘۔
جن علماء کا اسلام آباد میں داخلہ ممنوع قرار دیا گیا ہے ان میں سے 7 کا تعلق دیوبندی مکتبہ فکر، 5 کا فقہ جعفریہ اور 4 کا بریلوی مکتبہ فکر سے ہے۔