
ایکنا نیوز- اطلاع رساں ادارے christiantoday»» کے مطابق نازی نسل پرست تحریک پگیڈا جسکے پروگرام میں گذشتہ سال پچیس ہزار لوگ شریک ہوئے تھے اس سال تمام پروپیگنڈوں کے باوجود چھ ہزار پانچ سو لوگ جمع ہوئے جو اس تحریک کے لیے خطرے کی گھنٹی سمجھی جاتی ہے۔
تحریک کے حامیوں میں شدید کمی سے جرمن وزیر داخلہ نے اس بات کی امید ظاہر کی ہے کہ آیندہ اس تحریک کی برسی نہیں منائی جائے گی کیونکہ اب لوگ اس میں دلچسپی نہیں لے رہے۔
گذشتہ سال چھ فروری کو اس تحریک کی درخواست پر یورپ کے مختلف شہروں میں بڑے پیمانے پر مسلم مخالف مظاہرے کیے گیے اور جرمن شہر سدن میں پندرہ ہزار لوگ مظاہروں میں شریک ہوئے تھے ۔
جرائم کی دنیا میں معروف لوٹس باخمن جو اس تحریک کے بانیوں میں شمار ہوتا ہے نے کہا تھا کہ ہم ملک میں اپنی ثقافت اور تمدن کی بقا چاہتے ہیں اور جو اسکے مخالف ہیں وہ جرمنی میں نہیں رہ سکتے ۔
قابل ذکر ہے کہ مونیخ جہاں اکثر مہاجرین آباد ہیں وہاں لوگ پناہ گزینوں سے اچھے تعلقات کے حامی ہیں اور سدن جہاں بہت کم تعداد میں پناہ گزین رہتے ہیں وہاں اب تک تعصب کی فضا برقرار ہے ۔
تحریک کا بانی ہٹلر کے ہمراہ اپنی تصاویر لگانے، پناہ گزینوں کو " حیوان اور گندے لوگ کہنے کی وجہ سے عدالت میں بھی پیش ہوچکا ہے۔
جرمنی میں چالیس لاکھ مسلمان رہتے ہیں اور صوبہ «زاکسن» جہاں بہت کم مسلمان رہتے ہیں وہاں پگیڈا کے حامی زیادہ تعداد میں موجود ہیں ۔