حکمرانوں سمیت اداروں میں موجود کالی بھیڑیں دہشتگردوں کی ہمدرد و ہمنوا ہیں- ڈومکی

IQNA

حکمرانوں سمیت اداروں میں موجود کالی بھیڑیں دہشتگردوں کی ہمدرد و ہمنوا ہیں- ڈومکی

13:32 - October 22, 2016
خبر کا کوڈ: 3501754
بین الاقوامی گروپ: حکومتی پابندیاں حق پر چلنے کا نتیجہ، اپنے موقف سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے، علامہ مقصود ڈومکی
حکمرانوں سمیت اداروں میں موجود کالی بھیڑیں دہشتگردوں کی ہمدرد و ہمنوا ہیں- ڈومکی
ایکنا نیوز- اسلام ٹایمز سے گفتگو میں مجلس وحدت سندھ کے جنرل سیکریٹری نے فورتھ شیڈول میں نام ڈالنے کے حوالے سےکہا :میں سمجھتا ہوں کہ یہ انتہائی ظالمانہ اقدام ہے، قاتل اور مقتول اور ظالم و مظلوم کو ایک ہی پلڑے میں بیٹھا کر دونوں کو ایک ہی نظر سے دیکھا جا رہا ہے، ہم تو ایک عرصہ سے مسلسل یہ کہتے چلے آئے ہیں کہ پاکستان میں ملت تشیع کا قتل عام ہو رہا ہے، دہشتگردی ہو رہی ہے، پاکستانیوں کا خون بہایا جا رہا ہے، 80 ہزار مظلوم انسان یہاں قتل ہوگئے، کسی کو سزا نہیں ملی، کوئی دہشتگرد نہیں پکڑا گیا، کوئی نیٹ ورک نہیں ٹوٹا، فقط بلند و بالا جھوٹے دعوے کئے گئے۔ ہمارے حکمرانوں سے لیکر اداروں تک میں کالی بھڑیں موجود ہیں، جو ان کی ہمدرد و ہمنوا ہیں، جو ان کے وکیل صفائی بن کر ریاستی اداروں میں دہشتگردوں کی وکالت کرتے نظر آتے ہیں۔ پارلیمنٹ کے اندر دہشتگردوں کے ہمدرد موجود ہیں، جو ان کے وکیل صفائی بن جاتے ہیں۔ جب دہشتگرد کوئی بم دھماکہ کرتے ہیں تو یہ بجائے یہ کہ وہ کہیں کہ دہشتگردوں کا خاتمہ ہونا چاہئے، وہ کہتے ہیں کہ نہیں جناب یہ ڈرون حملوں کا ردعمل ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ جو حالیہ اقدام شیڈول فور کے نام پر ہوا ہے، یہ ایک بہت بڑا ظلم اور ناانصافی ہے، اس اقدام سے ریاستی اداروں اور حکومت نے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ دہشتگردی ختم نہیں کرنا چاہتے، یہ ان کیخلاف کارروائی کرنا چاہتے ہیں جو دہشتگردی کیخلاف میدان میں ہیں، ہمارا جرم یہ ہے کہ ہم نے مظلوموں کیلئے آواز بلند کی، کوئٹہ میں اہل تشیع کو چن چن کر مارا جاتا رہا، مستونگ کے اندر شیعان علی (ع) کو شہید کیا گیا اور ان کی نعش کو دفن کرنے نہیں دیا جاتا تھا، ان کے لاشے بے غسل و کفن پڑے رہے، ماسٹر عبدالقادر شہید مظلوم کربلا کے عاشق تھے، دل اس عظیم شہید کو یاد کرکے خون کے آنسو روتا ہے، ایک حافظ کو سریاب روڈ پر شہید کیا گیا، اس کی نعش کو کوئی غسل و کفن دینے والا نہیں تھا۔ ہم نے ظلم کیخلاف مسلسل آواز اٹھائی، حکومت نے کہا کہ ان لوگوں کی زبان بندی کی جائے، جو لوگ مظلوموں کیلئے آواز اٹھا رہے ہیں، ان کی آواز کو خاموش کیا جائے، میں سمجھتا ہوں کہ ایسی گھٹیا حرکتوں سے ہماری زبان بند نہیں ہوسکتی، ہم حق کیلئے آواز اٹھاتے رہے ہیں، اٹھاتے رہیں گے، ہم ظالموں، قاتلوں، دہشتگردوں کیخلاف میدان عمل میں رہے ہیں اور آگے بھی رہیں گے۔
نظرات بینندگان
captcha