
ایکنا نیوز- نیوز ایجنسی (اینا) کے مطابق اقوام متحدہ کے علمی ثقافتی ادارے یونیسکو کے قرار داد کے بعد جسمیں مسجد الاقصی کو اسلامی میراث قرار دیا گیا ہے صھیونی حکام اب تک اس فیصلے پر آگ بگھولا نظر آتے ہیں
اس قرار داد پر غصے کا اثر ہے کہ صھیونی وزیراعظم نتین ہاہو نے ایک اسرائیلی مرکز کے افتتاح کے موقع پر پریس والوں سے گفتگو میں تمام آداب کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کہا: میں ذاتی طور پر عہد کرتا ہوں کہ مسجد الاقصی کی کھودائی میں شرکت کرونگا۔
انہوں نے صھیونی گروپوں سے کہا کہ وہ اس کام کے لیے انکے ساتھ دامے درمے تعاون کے لیے میدان میں نکل آئے۔
صھیونی وزیراعظم کے اس توہین آمیز بیان پر اسلامی کونسل نے رد عمل ظاہر کیا ہے ۔ قدس کمیٹی کے رکن «حنا عیسی» نے اس بیان کی مذمت کرتے ہوئے اس بیان کو اسلامی میراث کی چوری سے تشبیہ دیا ۔
انہوں نے کہا : اسرائیلی حکام ہر روز بین الاقوامی قوانین کا مذاق اڑاتے ہیں اور اس طرح کے بیانات کھلم کھلا اقوام متحدہ کے اعلامیے کی خلاف ورزی ہیں۔