وہابیت پر اعتراض تیونسی وزیر کو مہنگا پڑا

IQNA

وہابیت پر اعتراض تیونسی وزیر کو مہنگا پڑا

7:21 - November 05, 2016
خبر کا کوڈ: 3501843
بین الاقوامی گروپ: تیونس کی حکومت نے ایک وزیر کو دہشت گردی اور وہابیت میں تعلق کی بات پر انہیں وزارت سے فارغ کردیا

وہابیت پر اعتراض تیونسی وزیر کو مہنگا پڑا


ایکنا نیوز- العالم نیوز کے مطابق تیونس کے وزیر برائے مذہبی امور «السید عبدالجليل بن سالم» کو عہدے سے فارغ کردیا گیا ہے

تیونسی کابینہ کے مطابق وزیر مذہبی امور نے سفارتی آداب کے برخلاف توہین آمیز باتیں کی ہیں

عبدالجليل بن سالم نے گذشتہ روز کہا تھا کہ وہابیت دنیا بھر میں شدت پسندی پھلانے کی اہم وجہ ہے

انہوں نے کہا کہ میں نے سعودی اور عرب حکام سے واضح کہا کہ وہابیت شدت پسندی کی وجہ ہے اور آپ لوگوں کو اس پر سوچنا چاہیے اور میں دوستانہ عرض کررہاہوں اور میرا کوئی سیاسی مقصد نہیں ۔


بن سالم نے کہا کہ ایک دانشور کے حوالے سے یہی کہونگا کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا مگر وہابیت اسکی اہم وجہ ضرور ہے۔

اس بیان کے ایک دن بعد ہی تیونس حکومت نے سعودی عرب سے تعلقات کو بہترین اور دوستانہ قراردیا

پہلی بار کسی تیونسی اعلی حکام نے اس طرح سے وہابیت پر اعتراض کیا ہے۔


3543293

نظرات بینندگان
captcha