
ایکنا نیوز- ادارہ ثقافت وتعلقات اسلامی کے مطابق «احترام و کرامت انسانی؛عالمی امن کا پیش خیمہ» کے عنوان سے اجلاس رہبر معظم کے نمایندے آیتالله تسخیری، صدر مملکت کے مشیر، حجتالاسلام والمسلمین یونسی، اقلیتی امور میں صدر کے مشیر، حجتالاسلام والمسلمین نواب، مختلف یونیورسٹیوں کے اساتذہ، ایران، عراق، لبنان، نایجریا، آمریكہ، سوئیزرلینڈ، ویٹکن، اٹلی هندوستان، فرانس، انگلینڈ اور هانگ كانگ کے دانشوروں کی شرکت کے ساتھ شروع ہوچکا ہے۔
ادارہ ثقافت کے حسینیه الزهرا(س) میں منعقدہ اجلاس کی پہلی نشست سے خطاب میں ادارہ ثقافت و تعلقات اسلامی کے سربراہ ابراهیمیتركمان نے کہا کہ شدت پسند افراد خود کو لوگوں کی جانوں کے مالک سمجھتے ہیں۔
ابوذر ابراهیمیتركمان نے شدت پسندی کو عصر حاضر کا ایک اہم چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ چند جاہلوں کی وجہ سے لوگ انسانیت سے نفرت کرنے لگے ہیں لیکن ہمیں چاہیے کہ اس نفرت کو عشق میں بدلنے کی کوشش کریں۔
انہوں نے کہا کہ افسوس اس بات کی ہے کہ یہ شدت پسند افراد بدترین جرایم کو دین کے نام پر انجام دیتے ہیں۔
ابراهیمیتركمان نے دینی اقدار کی اہمیت کو قابل اہمیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ آج کی دنیا کو امن، بقا اور ہم آہنگی کی شدید ضرورت ہے اور اس حوالے سے ایران دنیا کے لیے ایک مثال ہے جہاں مختلف مذاہب کے لوگ مکمل برابری اور ہم آہنگی کے ساتھ بسرکرتے ہیں
انہوں نے کہا کہ تمامی آسمانی ادیان کے نزدیک امن و محبت دین کا اہم ترین درس ہے جس پر عمل دنیا کو امن کا گہوارہ بناسکتا ہے۔
ادارہ ثقافت کے سربراہ نے کہا کہ جہاں تک دین کا تعلق ہے تو ایک حد تک اسکا اور ثقافت کے درمیان گہرا تعلق ہے پس کہا جاسکتا ہے کہ مختلف ادیان کے اسکالروں کی اہم ترین ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس حوالے سے اپنا مثبت کردار ادا کریں۔
ابوذر ابراهیمیتركمان نے مزید کہا کہ امید کی جاتی ہے کہ اس تین روزہ نشست کے اختتام پر مختلف ادیان کے دانشوروں کے درمیان ایک اچھی ہم آہنگی کی فضا پیدا ہوگی ۔
ادارہ ثقافت کے مطابق تین روزہ اجلاس میں ایران، عراق، لبنان، نایجریا، امریكہ، سوئیزرلینڈ، اٹلی، هندوستان، فرانس، انگلینڈ، اور ہانک کانگ سے علمی اور مذہبی اسکالرز شرکت کررہے ہیں ۔