ایکنا نیوز- ڈان نیوز کے مطابق بھارتی نشریاتی ادارے این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق یہ چھاپے مہاراشٹرا میں 10 مقامات پر مارے گئے۔
واضح رہے کہ کالعدم قرار دی گئی اس تنظیم کو انسداد دہشت ایجنسی کی جانب سے کیس میں بھی نامزد کیا جاچکا ہے۔
ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام (یو اے پی اے) اور انڈین پینل کوڈ (آئی پی سی) کی دفعات کے تحت این آئی اے ذاکر نائیک اور دیگر کے خلاف مذاہب کے درمیان نفرت بڑھانے کے الزام میں کیس دائر کرچکی ہے۔
این آئی اے کی ممبئی برانچ کی جانب سے کیس دائر کرنے کے بعد مقامی پولیس کی مدد سے تلاشی کا آغاز کیا گیا۔
واضح رہے کہ 16 نومبر کو بھارتی حکومت کی جانب سے ذاکر نائیک کی تنظیم آئی آر ایف کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے اس پر 5 سال کی پابندی عائد کی جاچکی ہے، یہ پابندی یو اے پی اے کے تحت لگائی گئی اور یونین کابینہ میں اس کو منظور کیا گیا۔
یو اے پی اے کے تحت ’غیر قانونی‘ تنظیم قرار دیا جانا ’دہشتگرد‘ تنظیم قرار دیے جانے سے مختلف ہے، یو اے پی اے کے سیکشن 3 کے تحت غیرقانونی قرار دیے جانے کے بعد تنظیم کے دفاتر کو زبردستی بند کرایا جانا اور ملک بھر میں اس کی سرگرمیوں کو محدود کرنا شامل ہے۔