ذاکر نائیک کی این جی او پر بھارتی تحقیقاتی ایجنسی کا چھاپہ

IQNA

ذاکر نائیک کی این جی او پر بھارتی تحقیقاتی ایجنسی کا چھاپہ

13:59 - November 19, 2016
خبر کا کوڈ: 3501943
بین الاقوامی گروپ:بھارتی قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے مشہور مبلغ ذاکر نائیک کی غیر سرکاری تنظیم (این جی او) اسلامک ریسرچ فاؤنڈیشن (آئی آر ایف) کے 10 دفاتر پر چھاپے مارے

ایکنا نیوز- ڈان نیوز کے مطابق بھارتی نشریاتی ادارے این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق یہ چھاپے مہاراشٹرا میں 10 مقامات پر مارے گئے۔

واضح رہے کہ کالعدم قرار دی گئی اس تنظیم کو انسداد دہشت ایجنسی کی جانب سے کیس میں بھی نامزد کیا جاچکا ہے۔

ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام (یو اے پی اے) اور انڈین پینل کوڈ (آئی پی سی) کی دفعات کے تحت این آئی اے ذاکر نائیک اور دیگر کے خلاف مذاہب کے درمیان نفرت بڑھانے کے الزام میں کیس دائر کرچکی ہے۔

این آئی اے کی ممبئی برانچ کی جانب سے کیس دائر کرنے کے بعد مقامی پولیس کی مدد سے تلاشی کا آغاز کیا گیا۔

واضح رہے کہ 16 نومبر کو بھارتی حکومت کی جانب سے ذاکر نائیک کی تنظیم آئی آر ایف کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے اس پر 5 سال کی پابندی عائد کی جاچکی ہے، یہ پابندی یو اے پی اے کے تحت لگائی گئی اور یونین کابینہ میں اس کو منظور کیا گیا۔

بھارتی میڈیا اس سے پہلے بھی رپورٹ کرچکا ہے کہ حکومت ذاکر نائیک کی ’قابل اعتراض اور تخریبی‘ تقاریر کی وجہ سے ان کی تنظیم آئی آر ایف پر پابندی لگانا چاہتی ہے، ذاکر نائیک اور ممبئی، مہاراشٹرا اور کیرالہ کے علاقوں میں ان کی تنظیم کے دیگر اراکین کے خلاف کیس دائر کیے جاچکے ہیں جبکہ پیس ٹی وی پر نشر کیے جانے والے کمیونل اور جہادی مواد سے ان کے مشتبہ تعلقات بھی کارروائی کی ایک وجہ ہیں۔

یو اے پی اے کے تحت ’غیر قانونی‘ تنظیم قرار دیا جانا ’دہشتگرد‘ تنظیم قرار دیے جانے سے مختلف ہے، یو اے پی اے کے سیکشن 3 کے تحت غیرقانونی قرار دیے جانے کے بعد تنظیم کے دفاتر کو زبردستی بند کرایا جانا اور ملک بھر میں اس کی سرگرمیوں کو محدود کرنا شامل ہے۔

نظرات بینندگان
captcha